کراچی: سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ موجودہ دہور آگاہی ابلاغ کا دور ہے اور آجکل ہر فرد باشعور ہے ، ہم چاہتےہیں کہ مین اسٹریم میڈیا مضبوط ہو، معاشرےمیں بہتری کے لئے دیگر اداروں کے ساتھ ساتھ میڈیا بھی اقدامات کرے، پیپلزپارٹی اور حکومت سندھ ہمیشہ آزادی صحافت کےساتھ رہی ہے ، آزادی صحافت سےہی فیک نیوز کلچر کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔
سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن کراچی پریس کلب کی نو منتخب باڈی کی دعوت پر کراچی پریس کلب پہنچے، جہاں آمد پر کراچی پریس کلب کے صدر فاضل جمیلی، جنرل سیکریٹری محمد سہیل افضل، جوانئٹ سیکریٹری محمد منصف، خزانچی عمران ایوب، گورننگ باڈی کی ممبران حفیظ بلوچ، منظور شیخ اور دیگر نے ان کا استقبال کیا۔ اس موقع پر سیکریٹری اطلاعات، ندیم الرحمان میمن، ڈی جی اطلاعات سلیم خان اور محکمہ اطلاعات کے دیگر افسران بھی موجود تھے۔ کراچی پریس کلب کے نو منتخب عہدیداران نے سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کے اعزاز میں ظہرانہ دیا، اس موقع پر پریس کلب کے عہدیدارن نے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کو کراچی پریس کلب آمد پر شکریہ ادا کیا اور ان کو کراچی پریس کلب اور صحافیوں کو درپیش مسائل کے حوالے سے تفصیلی آگاہی دی۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی پریس کلب کے نو منتخب عہدیداران کو مبارکباد دی اور ساتھ ساتھ مسائل کے حل کی یقین دہانی کروائیَ۔
بعد ازاں، میڈیا سے بات کرتے ہوئے سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ کراچی پریس کلب کی جانب سے مدعو کرنے پر عہدیداران کا شکر گزار ہوں، صحافیوں کے حقوق کا تحفظ اور فلاح و بہبود پیپلز پارٹی کا عزم ہے، پاکستان پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت کا ویژن ترقی ہے، پاکستان بھر میں صحت کی بہترین سہولیات صرف صوبہ سندھ میں دستیاب ہیں، دنیا کی تاریخ میں گھروں کی تعمیر کا سب سےبڑا منصوبہ سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت سندھ کی جانب سے شروع کیا گیا ہے، اس وقت سیلاب متاثرین کے لئے اکیس لاکھ گھر تعمیر کئے جا رہے ہیں، ٹرانسپورٹ کے شعبے میں ریڈ لائن بی آر ٹی اور یلو لائن بی آرٹی پر کا م چل رہا ہے، پاکستان پیپلز پارٹی ماحول دوست الیکٹرک بسیں لارہی ہے، ای وی ٹیکسی سروس شروع کرنے کے حوالے سے روزانہ کی بنیاد پر اجلاس ہورہے ہیں ، ہم چاہتے ہیں کہ پنک اور ای وی ٹیکسی جلد شروع کی جائے ۔
انہوں نے کہاکہ حکومت سندھ کی جانب سے خواتین کے لئے پنک اسکوٹی بھی شروع کرنےجارہے ہیں، پنک اسکوٹی کے ذریعے خواتین کو بااختیار بناناہے، پنک اسکوٹی سے متعلق پالیسی آئندہ چند روز میں مرتب کی جائے جائے گی، روڈ نیٹ ورک پر تیزی سےکام ہورہاہل ہے، صوبائی حکومت کی جانب سے سڑکیں بنائی گئی ہیں ، سندھ بھر میں وفاقی روڈز کے علاوہ دیگر سڑکیں بہتر حالت میں ہیں۔
سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ شاہراہ بھٹو ایکسپریس وے پر مسافروں کی تعداد بڑھ رہی ہے، شاہراہ بھٹو ایکسپریس وے دسمبر تک 39کلومیٹر کا مکمل ہوجائے گا ، کراچی میں لنک روڈ کی تعمیر کا کام چل رہاہے، حکومت سندھ کی جانب سے تھرکول انرجی پر بھی کام جاری ہے اور تھر کول جیسا کام پاکستان کی تاریخ میں نہیں ہوا ، نوازشریف کے دور حکومت میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو کی جانب سے شروع کیا جائے والا تھرکول منصوبہ روک دیا گیا تھا، صدر آصف علی زرداری کے دور میں تھرکول منصوبہ پر دوبارہ کام شروع کیا گیا، آج تھر کے مقامی کوئلےسےسستی بجلی بن رہی ہے۔
ایک سوال کے جواب میں سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ کینالز سے متعلق سندھ حکومت کا ٹھوس اور واضح موقف آچکا ہے۔
پیکا قانون سے متعلق ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی آزادی اظہار کی سب سےبڑی حامی ہے، لیکن جھوٹ پھیلانے والوں کو روکنے کا حل کیا ہے؟ منفی تاثر جھوٹی خبروں سےبنایا جاتا ہے، ملکی تاریخ میں سب سے زیادہ میڈیا ٹرائل پاکستان پیپلز پارٹی کا ہوا ہے، جھوٹ پھیلانےکو روکنے کا میکنزم بنانا ہوگا ۔
ایک اور سوال کے جواب میں سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ پیپلزپارٹی سمجھتی ہے کہ مذاکرات ہونے چاہیئں، پاکستان کے ہر مسئلے کا حل مذاکرات میں ہے، پی ٹی آئی اور ان کے بانی کو وارداتوں کا حساب دینا ہوگا، بانی پی ٹی آئی کو سزا ہوئی کوئی احتجاج کےلیے سڑک پر نہیں آیا ، خیبرپختونخواہ میں ان کی اپنی حکومت ہے لیکن وہاں پر بھی ایک شخس بھی احتجاج کےلیے نہیں نکلا ، 9مئی کو ریڈیو پاکستان، جی ایچ کیو پر حملہ کیا گیا، بسز اور ایمبولینسز کو آگ لگائی گئی، بانی پی ٹی آئی کی گرفتاری پر پاکستان بھر میں جلاؤ گھیراؤ کیا گیا، اداروں میں بغاوت پیدا کی گئی ۔
ایک اور سوال کے جواب میں سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی روز اول سے ہی سلیکٹو سسٹم میں رہے ہیں ، دو ہزار اٹھارہ میں عمران خان جیتنے کے بعد ہر سیاسی مخالف کو چور اور ڈاکو کہتا تھا ، بانی پی ٹی آئی نےگرفتاری پر آگ لگانےکی ہدایات دی تھیں، اب جب وہ جیل میں تھا تو جلاؤگھیراؤ کی ہدایات باہر نہیں آئیں، 2018کےتاریخی انتخابات میں تاریخی طور پر ان کو کامیاب کرایا گیا تھا، عمران خان کے دور حکومت میں پشاور بی آرٹی میں7ارب کی رشوت لی گئی ، بی آرٹی میں رشوت خوری کی کی انکوائری رکوانےکے لیے اسٹے لیا گیا ، نیب اور ایف آئی اےکو تحقیقات سے روکنے کے لیے آج تک کس نے اسٹے آرڈر لئے ہیں؟ نیب ایف آئی اے۔کو تلاشی لینےسے روکنے کی کوئی اور مثال ہے؟ ثاقب نثار جیسےاسپانسرز کےزریعے بنی گالہ ریگولرائز کرایا گیا، آج ان کو وہی عدلیہ اچھی نہیں لگ رہی ، دنیا کو چور ڈاکو بولنے والا سہولیتیں مانگ رہا ہے، آج یہ ڈبل میٹرس دیسی مرغیاں مانگ رہا ہے۔
ایک اور سوال کے جواب میں سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ پیپلز بسوں میں یومیہ ایک لاکھ مسافر سفر کرتےہیں، سندھ حکومت پیپلز بس کے مسافروں کو یومیہ پچاس روپے تک فی مسافر سبسڈی دیتی ہے ، ریڈ لائن بی آرٹی میں مختلف ایشو ہیں، ہم نےروڈ کٹنگ کو ختم کرنا ہے، ہم چاہتےہیں کہ تمام یوٹیلیٹیز ایشوز کو حل کریں۔
ایک اور سوال کے جواب میں سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ میڈیا پر وزیراعلیٰ سےمتعلق قیاس آرائیاں چلتی رہتی ہیں، ملک کے چاروں صوبوں میں سب سے زیادہ پڑھا لکھا اور اسمارٹ سندھ کے وزیر اعلیٰ وزیراعلیٰ مرادعلی شاہ ہیں، وزیراعلیٰ سندھ دن رات کام کر رہے ہیں،ٹک ٹاکر وی لاگرز باتیں کرتے رہتے ہیں، مرادعلی شاہ اچھا کام کررہے ہیں، ان کا تسلسل رہنا چاہیے، وزیراعلی سندھ اچھا کام کررہےہیں تو تبدیل کیوں کیاجائے گا؟
ایک اور سوال کے جواب میں سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ مزید ای وی بسیں کابینہ کی منظوری سےخرید رہے ہیں، پیپلز بسوں میں مسافروں کو سبسڈی سے رعایت مل رہی ہے ، حکومت کرائے زیادہ نہیں لے رہی، سبسڈی کو کم کررہے ہیں، صوبائی کابینا کو ہم نے پیپلز بس کی سبسڈی ختم یا کم کرنے کی تجویز دی ، جو پیسے بچیں گے اس سے ہم مزید بسیں خرید کرینگے، حکومت سندھ کی جانب سے مزید ای وی بسز خرید کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ایک اور سوال کے جواب میں سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ ٹریفک حادثات میں اموات پر دلی افسوس ہے، ان واقعات کےہم سب قصوروار ہیں، ہم ٹریفک قوانین کی پاسداری نہیں کرتے، معاشرےمیں حکومت اور عوام سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہے۔
