کراچی: انجمن ترقی پسند مصنفین کی جانب سے سندھ کے مامورمحقق ‘گل حسن کلمتی ادبی کانفرنس و مشاعرے’ کا انعقاد کیا گیا۔
تقریب میں ارسا میں سندھ کے نمائیندے احسان لغاری، ماہر آب عبدالرحمان پیرزادہ، سندھ کی نامور رائیٹر سلطانہ وقاصی، بدر ابڑو، رخمان گل پالاری،وجیش کمار،ریاض شاہ دایو،عیسی میمن، حفیظ بلوچ، اعظم بھٹی، امین قریشی، غفور میمن، ڈکٹر اویس قرنی و دیگر نے شرکت کی۔
تقریب میں چہار کتب کی رونمائی کی گئی اور بدرابڑو کو لائیف اچیومنٹ ایوارڈ بھی دیا گیا، جبکہ شیما کرمانی نے رقص کرکے خوب داد وصول کیا۔
سلطانہ وقاصی نے اپنے مقالے میں کہا کہ این ای ڈی اور این جے وی سمیت تمام اداروں کے نام ان کے مکمل ناموں سے ہونے چاہیے، ایسا نہ کرنا ان تاریخی شخصیات سے ناانصافی ہوگی۔
رخمان گل پالاری نے کہا کہ گل حسن کلمتی تاریخ کا ایک اہم کردار اور سندھ کا اثاثہ ہیں جنہوں نے کراچی کی تاریخ سمیٹ کر دی۔
ان کا کہنا تھا کہ گل حسن کلمتی، ایماندار ، وقت کا پابند، سخی، خوش مزاج اور قول و فعل کے پابند تھے۔ انہیں کئی بار خرید کرنے کی بھی کوشش کی گئی مگر کوئی بھی خرید نہ سکا۔
شیما کرمانی کا کہنا تھا کہ گل حسن کلمتی کا بہت بڑا کام ہے مگر عام عوام تک نہیں پہنچ سکا، انہوں نے جو تاریخ لکی ہے وہ عام انسان تک پہنچ نی چاہیے۔
سندھ کے نامور آرٹسٹ بدر ابڑو کا کہنا تھا میں آھی تک کچھ نہیں سیکا، جس کے اندر انسان ہے وہ ہی انسانیت پر یقین رکھتا یے۔ ہمیں انسان سے محبت کرنی چاہیے۔
احسان لغاری نے کہا کہ ملک میں نئی زراعت کیلے پانی موجود ہی نہیں،1991ع سے آج تک پیرا سات کے تحت انڈس ڈیلٹا میں پانی چھوڑنا چاہیے مگر نہیں چھوڑا جاتا، انڈس ڈیلٹا کا بچا پاکستان کا ہی بچا ہے، اگر ایسے نہ کیا گیا تو آنے والی مصیبتوں کا نقصان ادا نہیں کرسکیں گے۔دنیا اب دریاؤں کو حقوق دے رہی ہے، اگر ہم پانی استعمال کر رہے ہیں مگر درخت، آبے جیوت و دیگر چیزوں کا نقصان ہوتا ہے۔جب تک پانی کے حقوق سب کو نہیں ملینگے تب تک مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ اگر کوئی کہتا ہے کہ اس سے پاکستان کی ترقی ہوگی تو ایسا نہیں ہوگا۔ہماری یہاں پانی پینے کیلے بھی میسر نہیں تو زراعت کی بات کرنا ناانصافی ہوگی۔
عبد الرحمان پیرزادہ کا کہنا تھا کے انگریزوں کے زمانے سے سندھ کے پانے پر اعتراضات ہوتے رہے ہین، جب انگریز دریا بنارہے تھے تب پنجاب نے اعتراض کیا تھا۔ارسا میں فیڈرل کے نمائندے کی ضرورت ہی نہیں، ان کا ووٹ بھی استعمال کیا جاتا ہے۔پہلے جو بھی معاہدے ہوئے ان پر عمل نہیں کیا گیا، سندھ کے پانے پر ڈاکا ڈالا جارہا ہے۔28 دیھ تباھ ہوچکی ہیں لوگ پریشان ہیں، اگر پانی نہیں ملا تو سندھ میں کچھ نہیں بچے گا۔
