
اسلام آباد (رپورٹ) وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ مارشل لا لگنے کا کوئی امکان نہیں ہے،جی ایچ کیو پر تحریک طالبان کے بعد تحریک انصاف نے حملہ کیا ہے ،ا گر کسی اور پارٹی یا تنظیم نے اس طرح کیا ہوتا تو پتہ نہیں اب تک کیا سے کیا ہوچکا ہوتا ،نواز شریف ،شہباز شریف ،آصف زرداری ،مریم نواز اور مجھ سمیت سیاستدانوں کو عدالت عظمیٰ سے یہ حسن سلوک کیوں نہیں ملا ؟ ایک گفتگو منظر عام پر آئی ہے، ایک وکیل کسی بندے کو بتا رہے ہیں کہ فیصلہ یہ آنا ہے ، انہوں نے تو پیر منگل کو جو ہونے والا ہے وہ بھی بتایا ہے ۔وہ جمعرات کو پی ٹی وی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے ۔
وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا کہ نیب ترامیم کا سب سے پہلا بینفشری عمران خان ہوا ہے، ہمارے دور میں 90 دن کا جسمانی ریمانڈ تھا ، ان دنوں کسی کو خیال نہیں آیا کہ ہماری حراست بھی ختم کر دی جائے ، اب تو ریسٹ ہائوس میں سہولیات کا بھی پوچھا جاتا ہے ،یہ اس ملک میں دو معیار کیوں ہیں ،عام زندگی، قانون ،آئین ،ہر کسی کے دو معیار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ کہتے ہیں مجھے ڈنڈے مارے گئے مجھے کوئی چیز یاد نہیں ہے ، یاد داشت اسی طرح ہے کہ جب چاہیے غائب ہو گئی اور جب چاہا واپس آگئی ۔ انہوں نے کہاکہ پولیس حراست میں عمران خان کے میڈیکل اور خیراتی ہسپتال کے میڈیکل میں زمین آسمان کا فرق ہے، اس میڈیکل میں اور پولیس میڈیکل رپورٹ میں زخموں کی نوعیت اور ہے ،قوم کو کب تک بے وقوف بنایا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی عمران خان سپریم کورٹ کی راہداری میں خود چل کر گئے ہیں، نہ ویل چیئر کی ضرورت پڑی اور نہ ہی ظاہر ہورہا تھا کہ ان کی ٹانگ زخمی ہے یا تکلیف ہے ۔
وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا کہ ایک سوال ہے کہ یہ دوہرا معیار کیوں ہیں ، پنجاب اور کے پی کے کے اندر جس طرح کا گھیرائو جلائو اور جو زبان استعمال کی گئی ہے وہ کسی سے چھپی ہوئی نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کیا یہ ملکی سالمیت پر حملہ نہیں ہے ،ملک دشمنی نہیں ہے؟اس پر ازخود نوٹس نہیں بنتا تھا ؟ انہوں نے کہا کہ دیکھتے ہیں کہ آنے والے دنوں میں کس طرح حالات کروٹ لیتے ہیں لیکن ایک گفتگو منظر عام پر آئی ہے ، ایک وکیل کسی بندے کو بتا رہے ہیں کہ فیصلہ یہ آنا ہے ، انہوں نے تو پیر منگل کو جو ہونے والا ہے وہ بھی بتایا ہے
