استاد نصرت فتح علی خان کا مجسمہ اندین پنجاب میں موجود

شہنشاہ قوال استاد نصرت علی خان کو اردو زبان میں صوفی گلوکار اور جنوبی ایشیاء کے سب سے بڑے قوال کی طور پر جانا جاتا ہے۔

استاد نصرت فتح علی خان نے 13 اکتوبر 1948 میں جنم لیا اور 16 اگست 1997 میں شہنشاہ قوال ہمیشہ کے لئے بجھڑ گئے۔

شہنشاہ قوال استاد نصرت فتح علی خان کا مجسمہ انڈین پنجاب کے کسی گاؤں میں رکھا گیا ہے

سوشل میڈیا پر وائرل تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ استاد نصرت فتح علی خان کا مجسمہ کسی گاؤں کے میدانی میں نصب کی اگیا ہے۔

مجسمے میں استاد نصرت فتح علی خان کو ہرمونیم بجاتے اور سر بکھیرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں