مقامی صحت کے شعبے کو درپیش اہم چیلنجز کے حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے:میڈیکل ڈائریکٹر لیاقت نیشنل اسپتال پروفیسر ڈاکٹر سلمان فریدی
کراچی: لیاقت نیشنل ہسپتال (ایل این ایچ) کا تین روزہ 8واں سمپوزیم کا آغاز کردیا گیا ہے جو 12 جنوری 2025 تک جاری رہے گا۔اس سمپوزیم کا موضوع "پاکستان کا نظام صحت: لاگت، معیار اور ٹیکنالوجی کے درمیان توازن” ہے۔ اس پروگرام میں صحت کے شعبے میں ٹیکنالوجی کی ترقی، عوامی صحت، معیار کو کنٹرول کرنے اور صحت کے مستقبل سے متعلق مختلف موضوعات پر روشنی ڈالی جائے گی۔ یہ تین روزہ سمپوزیم 70 سے زائد سیشنز پر مشتمل ہوگا، جس میں 700 سے زائد تحقیقی مقالوں اور ای پوسٹرز پر سیشن بھی شامل ہیں، میڈیکل اور سرجیکل خصوصیات، بنیادی سائنسز اور میڈیکل تعلیم کے مختلف پہلوو ¿ں کا احاطہ کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ، سمپوزیم میں معاون صحت کے پیشہ ور افراد کے لیے مختلف سیشنز شامل ہوں گے، جن میں فزیوتھراپسٹ، آکیوپیشنل تھراپسٹ، اسپیچ تھراپسٹ، نرسز، میڈیکل ٹیکنالوجسٹ، فارماسسٹ، اور ہسپتال/ہیلتھ کیئر ایڈمنسٹریشن کے لیے خصوصی سیشنز شامل رکھے گئے ہیں۔
معروف قومی اور بین الاقوامی اداروں اور ہسپتالوں کے ڈاکٹرز سمپوزیم میں شرکت کررہے ہیں تاکہ صحت کے شعبے کو درپیش اہم چیلنجز پر اپنے علم اور تجربات کا تبادلہ کیا جا سکے۔
واضح رہے کہ سمپوزیم سے پہلے 120 سے زائد ورکشاپس، جو کہ مختلف موضوعات اور مہارتوں پر مبنی تھیں، ایل این ایچ میں منعقد ہو چکی ہیں جس میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔
سمپوزیم کے افتتاحی اجلاس کا انعقاد گزشتہ روز ہوا۔ جس کی خاص بات "اینٹی بائیوٹکس اور اس سے آگے” کے موضوع پر ایک معلوماتی ویڈیو کانفرنس تھی، جس میں اینٹی بائیوٹکس کے استعمال و غلط استعمال اور اینٹی بائیوٹک مزاحمت کے مسئلے پر توجہ دی گئی۔ شرکاءمیں ڈاکٹر سید فیصل محمود، جو آغا خان یونیورسٹی ہسپتال میں وبائی امراض کے پروفیسر اور آئی پی سی کے ایسوسی ایٹ چیف میڈیکل آفیسر ہیں، ڈاکٹر رضوان سی نعیم، جو نیویارک (امریکہ) کے البرٹ آئن سٹائن کالج آف میڈیسن اور مونٹیفور میڈیکل سینٹر میں پیتھالوجی کے پروفیسر ہیں، اور ڈاکٹر کرسٹین پیٹرز، جو گلاسگو (برطانیہ) میں کنسلٹنٹ کلینیکل مائیکروبیالوجسٹ ہیں، شامل تھے۔
لیاقت نیشنل اسپتال کے میڈیکل ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر سلمان فریدی نے اپنے خطاب میں کہاکہ مقامی صحت کے شعبے کو درپیش اہم چیلنجز کے حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے ، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تمام متعلقہ فریقین کو ان مسائل کے حل میں فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔پروفیسر ڈاکٹر عطا الرحمن نے کلیدی خطبے میں ”صحت کے علوم میں حالیہ دلچسپ پیش رفت“ کے موضوع پر گفتگو کی۔ انہوں نے نئی جدید ٹیکنالوجیز کو اپنانے پر زور دیا، جیسے مصنوعی ذہانت، جینیاتی انجینئرنگ اور بائیوٹیکنالوجی جو مختلف طریقوں سے زندگیوں کو تبدیل کر رہی ہیں۔
انہوں نے تحقیق اور علم کے کلچر کو فروغ دینے اور نئی نسل کے سائنسدانوں کو تحریک دینے پر بھی زور دیا۔سیکریٹری سمپوزیم و اسسٹنٹ میڈیکل ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر صالحہ شہزاد نے اپنے خطاب میں کہاکہ اس سمپوزیم کا مقصد پاکستان کے صحت کے نظام کو درپیش اہم چیلنجز پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے طبی ماہرین، پالیسی سازوں اور صنعت کے رہنماؤں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے کا بہترین موقع ہے۔یومِ اول سمپوزیم تعلیمی سرگرمیوں سے بھرپور رہا، جہاں مختلف سیشنز پورے اسپتال کیمپس میں منعقد ہوئے اور طبی و جراحی مہارتوں، بنیادی علوم اور معاون صحت کے شعبوں پر موضوعات کا احاطہ کیا گیا۔ عمومی اجلاس نے بڑی تعداد میں سامعین کو اپنی طرف متوجہ کیا اور اختتام تک حاضرین کو اپنی توجہ پر مرکوز رکھا۔
اجلاس کا آغاز پروفیسر ڈاکٹر عزیزہ شاد، ایلن ڈبلیو پی واسرمین چیئر آف پیڈیاٹرکس کی موضوعاتی گفتگو سے ہوا، جنہوں نے بچوں میں خون کے امراض اور سرطان کے موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے بچوں کے سرطان کے سنگین حالات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ہر سال دنیا بھر میں تقریباً 105,000 اموات بچوں کے سرطان کے باعث ہوتی ہیں، خاص طور پر کم اور متوسط آمدنی والے ممالک (LMICs) جیسے پاکستان میں، حالانکہ زیادہ تر سرطان قابلِ علاج ہیں۔ انہوں نے LMICs میں بچوں کے سرطان کے علاج میں درپیش چیلنجز جیسے تشخیص، علاج، بنیادی ڈھانچے اور حکومتی ترجیحات کی کمی کا ذکر بھی کیا۔دوسری گفتگو میڈیکل ڈائریکٹر لیاقت نیشنل اسپتال پروفیسر ڈاکٹر سلمان فریدی نے کی۔
