آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیرِ اہتمام صحافی ،نقاد افضال شروانی کی صد سالہ تقریب کا انعقاد

آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیرِ اہتمام صحافی ،نقاد افضال شروانی کی صد سالہ تقریب کا انعقاد

کراچی: آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیرِ اہتمام صحافی ،نقاد افضال شروانی کی صد سالہ تقریب کا انعقاد حسینہ معین ہال میں کیا گیا۔ تقریب کی صدارت شائستہ زیدی نے کی جبکہ معروف صحافی غازی صلاح الدین، معروف شاعرہ فاطمہ حسن ، توصیف احمد خان، ناظر محمود، شہاب کرامت ، وارث ، محمد علی صدیقی نے اظہار خیال کیا، شمیم خان اور افضال شروانی کی صاحبزادی انیتہ افضال نے ویڈیو پیغام کے ذریعے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

نظامت کے فرائض ان کے صاحبزادے عمران شروانی نے انجام دیے جبکہ ادبی و سماجی شخصیات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر افضال شروانی کے صد سالہ تقریب کے موقع پر کیک کاٹا گیا۔ صدارتی خطبے میں شائستہ زیدی نے کہاکہ پہلے ہمیں مباحثوں میں مختلف موضوع پر بات کرنے کا طریقہ بتایا جاتا تھا ، ڈاکٹر صاحب نے کہا تھا کہ تقریر خالی ذہن سے پیدا نہیں ہوتی،ہم تین نکات کو تہذیب کہتے ہیں جن میں کہنے ، سننے اور برداشت کرنا شامل ہے۔کیونکہ تہذیب ہی ہے جو انسان کو انسان بناتی ہے۔

غازی صلاح الدین نے کہا کہ جب ہم افضال شروانی کو یاد کرتے ہیں تو ماضی کے بہت سے دن اور یادیں تازہ ہو جاتی ہیں۔ وہ اپنے زمانے کے نمایاں اردو ڈیبیٹر تھے اور علمی و ادبی محفلوں میں بڑی دلچسپی سے حصہ لیتے تھے۔ افضال شروانی کو پڑھنے اور لکھنے کا بے حد شوق تھا اور وہ ادب و علم کے موضوعات پر ہمیشہ سنجیدہ گفتگو کیا کرتے تھے۔ افضال شروانی کے سیاسی خیالات بھی واضح اور مضبوط تھے۔ انہوں نے اپنی زندگی کے مختلف ادوار میں کئی مشکلات کا سامنا کیا، لیکن اس کے باوجود وہ اپنی علمی اور فکری وابستگیوں پر قائم رہے اور اپنی سوچ اور نظریات کا اظہار کرتے رہے۔

توصیف احمد خان نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ افضال شروانی نے ترقی پسند سوچ کو فروغ دینے کے لیے بے پناہ کام کیا۔ ان کی کاوشیں ادبی و فکری میدان میں نمایاں ہیں، انہوں نے ہمیشہ معاشرتی اور ادبی ترقی کے لیے اپنی محنت جاری رکھی۔

انیتہ افضال نے کہا کہ میرے ابا کی شخصیت نہایت منفرد اور ہمہ جہت تھی وہ نہ صرف ایک صاحبِ علم انسان تھے بلکہ دوسروں کی حوصلہ افزائی کرنا ان کی طبیعت کا خاصہ تھا، وہ ہمیشہ نوجوانوں اور لکھنے والوں کو آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتے اور ان کی رہنمائی کرتے تھے۔ میرے والد کو ادب سے گہرا لگاؤ اور بے پناہ شوق تھا۔ وہ ادب اور علم کی محفلوں کو بے حد پسند کرتے تھے اور اپنی زندگی کا بڑا حصہ علمی و ادبی سرگرمیوں کے لیے وقف کیے رکھا۔ آج جب میں اپنے والد کو یاد کرتی ہوں تو ان کی محبت، شفقت اور علم دوستی کی یادیں تازہ ہو جاتی ہیں، وہ نہ صرف ہمارے خاندان کے لیے بلکہ ادبی حلقوں کے لیے بھی ایک قابلِ قدر شخصیت تھے۔

معروف شاعرہ فاطمہ حسن نے کہاکہ افضال شروانی سے میرا تعلق ایک شفیق بزرگ دوست کی طرح تھا وہ نہایت مہربان اور خلوص رکھنے والے انسان تھے، جن کی شخصیت میں سادگی اور دیانت داری نمایاں تھی ، افضال شروانی ایک اصول پسند اور دیانتدار آدمی تھے وہ جب بھی لکھتے تو ہمیشہ سچ اور حقیقت کو سامنے رکھتے اور اپنی تحریروں میں وہی رائے پیش کرتے جسے وہ درست سمجھتے تھے۔ افضال شروانی نے میری ایک کتاب پر بہت اچھا اور فکر انگیز مضمون لکھا تھا، جسے ادبی حلقوں میں بھی سراہا گیا۔

تقریب سے ناظر محمود کا اظہارِ خیال نے کہا کہ میرے والد اور افضال شروانی بائیں بازو کی سیاست میں ایک ساتھ سرگرم رہے۔افضال شروانی کی تنقیدی نظر نہایت گہری تھی۔ وہ معاملات کو بڑے غور و فکر سے دیکھتے اور اپنی رائے دلیل کے ساتھ پیش کرتے ،ہم جیسے نوجوانوں کو وہ اکثر سمجھاتے اور رہنمائی کرتے تھے۔ افضال بھائی کو اردو اور انگریزی دونوں زبانوں پر یکساں عبور حاصل تھا، جس کی وجہ سے ان کی گفتگو اور تحریروں میں گہرائی اور وسعت نظر آتی تھی، وہ ہمیشہ دوسروں کو سکھانے اور اپنی معلومات بانٹنے کے لیے تیار رہتے تھے۔ افضال شروانی موضوع کو پوری وضاحت کے ساتھ بیان کرتے تھے۔ ان کی تحریریں قیمتی سرمایہ ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ ان کی تمام تحریروں کو یکجا کرکے محفوظ کیا جائے۔

شمیم خان نے کہا کہ افضال شروانی صرف ایک صحافی ہی نہیں بلکہ ایک صاحبِ فکر دانشور اور عمدہ شاعر بھی تھے۔ ان کی شخصیت میں علم، ادب اور تخلیقی صلاحیتوں کا حسین امتزاج پایا جاتا تھا۔افضال شروانی نے گلوکاری کے لیے کئی خوبصورت گیت تحریر کیے، جنہیں میں نے بڑے شوق سے گایا۔

تقریب سے وارث نے کہا کہ افضال شروانی ایسی شخصیت تھے جو لوگوں کو ہمیشہ متحرک اور فعال رکھتے تھے۔ وہ محفلوں میں ایسا جوش و جذبہ پیدا کر دیتے تھے کہ لوگ نہ صرف سنجیدگی سے گفتگو کرتے بلکہ عملی طور پر بھی سرگرم ہو جاتے۔ انہوں نے انجمن ترقی پسند مصنفین کے لیے بھی بے حد کام کیا ، ادبی اور فکری سرگرمیوں کو فروغ دینے میں افضال شروانی نے اہم کردار ادا کیا۔ شہاب کرامت نے کہا کہ افضال شروانی نے مجھے اردو زبان و ادب کے حوالے سے بہت کچھ سکھایا۔ ان کی صحبت میں رہ کر نہ صرف زبان کی باریکیوں کو سمجھنے کا موقع ملا بلکہ ادب اور تحریر کے آداب سے بھی آگاہی حاصل ہوئی۔افضال شروانی کی علمی اور ادبی رہنمائی ہمیشہ ایک قیمتی سرمایہ رہے گی اور ان کی خدمات کو ہمیشہ قدر کی نگاہ سے یاد رکھا جائے گا۔آخر میں افضال شروانی کی اہلیہ نے تمام مقررین اور حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں