شوبزمیں اپنے آپ کو بنا کسی سفارش کے منوانا آسان نہیں ہوتا ہے: سحر غزل

کراچی(رپورٹ، وسیم خان) خوبصورت دلکش، خوش اخلاق، خوش گفتار ملنسار تعلیم یافتہ اور بہترین اداکارہ و ماڈل سحر غزل کا ستارہ عروج پر ہے سحرغزل نے اپنے شوبز کیرئیر کا آغاز 2002 میں کراچی اسٹیج سے کیا تھا بے شمار کامیاب ڈرامے سحر غزل کے کریڈٹ پر موجود ہیں اس کے علاوہ ٹی وی پر کرائمز اسٹوری پر مشتمل ڈراموں کی فہرست الگ ہے سحر غزل نے چند ایک فلموں میں بھی کام کیا ہے جس میں جاوید شیخ کی مووی ہلا گلہ قابل ذکر ہے جبکہ متعدد کمرشل بطور ماڈل ان کے کریڈٹ پر موجود ہیں

سحرغزل کا اپنے شوبز کیرئیر کے حوالے سے کہنا ہے کہ بہت سی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا منزل پانے کیلئے بہت زیادہ محنت کرنی پڑھتی ہے شوبز کی رنگین دنیا میں اپنے آپ کو بنا کسی سفارش کے منوانا آسان نہیں ہوتا ہے جہان زندگی میں بہت سے نشب و فراز آتے ہیں اسی طرح شوبز میں بھی اوتار چڑھاو کے مراحل سے گزرنا پڑتا ہے سحرغزل کے فیورٹ اداکار وحید مراد اور بابرہ شریف ہیں وحید مراد کی اداکاری بے مثال تھی ان پر فلمائے ہوئے نغمات لاجواب تھے ان کے علاوہ رانی، شبنم، محمدعلی اور ندیم کی موویز پسند ہیں نئی نسل کی اداکارہ سحر غزل کو پرانے اداکار اور فلمیں اس لیے پسند ہیں کہ اس وقت بہت زیادہ محنت لگن اور جوش جذبے کے ساتھ کام کیا جاتا تھا اس کے برعکس آج کل تیز رفتاری بھاگم بھاگ کی فضا قائم ہے ہر ایک جلد بازی میں نظر آتا ہے

سحرغزل کو پاکستانی کھانے پسند ہیں بریانی حلیم اور کڑھائی شوق سے کھاتی اور پکاتی بھی خوب ہیں جبکہ فاسٹ فوڈز کو بھی نظرانداز نہیں کرتیں فارغ اوقات میں میوزک سننا پسند ہے فیورٹ گلوکار عطا اللہ عیسی خلیوی ہیں سحرغزل کی ہائٹ پانچ فٹ دو انچ ہے چہرے کا کلر صاف ہے بال اور آنکھوں کا رنگ  ڈراک بروئن اور جبکہ وزن پچاس kg ہے سحرغزل سیر و تفریح کے لیے ساحل سمندر کا رخ کرتی ہیں خوشامد پسند بالکل بھی نہیں ہیں آج جس مقام پر ہیں اس میں اپنی صلاحیتوں کے ساتھ فیملی کی فل سپورٹ ہونا بھی قرار دیتی ہیں

سحرغزل کا کہنا ہے کہ وہ کبھی بھی نمبرون کے چکر میں نہیں پڑی ہمیشہ اپنے کام پر فوکس رکھا اپنی فنی مصروفیت کے بارے میں سحر غزل نے بتایا کہ وہ چند اچھے بڑے پروجیکٹس میں کام کررہی ہیں جس میں ایک کامیڈی مووی بھی شامل ہے جبکہ اسٹیج پر چند ماہ پہلے کام کیا تھا مذید کوئی اچھا اسکرپث ملا تو ضرور کام کرونگی فی الحال اس وقت سارا فوکس ٹی وی ڈراموں پر ہے سحر غزل کا کہنا تھا کہ پہلے ایک ہی پی ٹی وی ہوتا تھا جہاں پر معیاری ڈراموں کی بھرمار ہوتی تھی بچوں کے لیے الگ پروگرام ہوتے تھے مجھے آج بھی عینک والا جن کے تمام کردار یاد ہیں گیسٹ ہاؤس کے جان ریمبو کو کون بھلا سکتا ہے موجودہ دور میں بھی ٹیلنٹ کی کمی نہیں ہے ہماری نئی نسل ماضی اور حال کے ڈراموں فنکاروں سے سیکھ سکتے ہیں خوبصورتی پر نہ جائیں ٹیلنٹ پر بھروسہ کریں سفارش یا خوبصورتی سے شاید ایک بار کام مل جائے مگر بار بار ایسا ممکن نہیں ہے

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں