سندھ مدرستہ الاسلام یونیورسٹی کی سنڈیکیٹ کا 30 واں اجلاس منعقد ہوا
کراچی: سندھ مدرستہ الاسلام یونیورسٹی کی سنڈیکیٹ کا 30 واں اجلاس جمعرات کو یونیورسٹی کے کانفرنس روم میں منعقد ہوا، جس کی صدارت وائس چانسلر ڈاکٹر مجیب صحرائی نے کی۔ اجلاس میں مختلف تعلیمی، انتظامی اور مالیاتی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اور فیصلے اور سفارشات مرتب کی گئیں۔
سنڈیکیٹ نے سندھ مدرستہ الاسلام یونیورسٹی کی سینیٹ کے لیے مالی سال 2024-25 کے بجٹ کی سفارش کی۔ اجلاس نے گزشتہ دو سالوں کے دوران پہلی اور دوسری عالمی ریسرچ کانگریسز اور 11 بین الاقوامی کانفرنسوں کا کامیابی سے انعقاد کرنے پر یونیورسٹی کے وائس چانسلر، ڈینز، فیکلٹی اور افسران کو سراہا۔
ممبران نے کہا کہ یہ ملک میں گلوبل ریسرچ کانگریس کا بہترین اور نیا تصور تھا۔ اس طرح سے ہمیں ریسرچ کلچر کو اہمیت دینا ہے۔ سنڈیکیٹ نے ڈاکٹر مجیب صحرائی کو بطور وائس چانسلر ایس ایم آئی یو کی دوسری مدت ملازمت دینے کے حکومت سندھ کے فیصلے کو بھی سراہا۔ کہا گیا کہ ترقی اور پیشرفت کے اس تسلسل سے یونیورسٹی زیادہ ترقی کرے گی۔
اجلاس میں کہا گیا کہ گزشتہ چار سالوں کے دوران ایس ایم آئی یو مالی بحران سے نکل آیا ہے اور اب اس کا بجٹ سرپلس ہے۔ مزید برآں، مذکورہ مدت کے دوران طالب علموں کی تعداد 1800 سے بڑھ کر 5500 سے زائد ہو گئی ہے۔ سنڈیکیٹ نے کہا کہ معیاری اور جدید تعلیم ملک کی ترقی کے لیے بہت ضروری ہے، اور سندھ مدرستہ الاسلام یونیورسٹی اپنی اعلیٰ تعلیم یافتہ اور تجربہ کار فیکلٹی کے تعاون سے معیاری تعلیم پر توجہ دے رہی ہے۔
اجلاس میں وائس چانسلر کے علاوہ سیکرٹری برائے یونیورسٹیز اینڈ بورڈز عباس بلوچ، مہران یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر طحہٰ حسین علی، وائس چانسلر شہید اللہ بخش سومرو یونیورسٹی آف آرٹ، ڈیزائن اینڈ ہیریٹیجز پروفیسر ڈاکٹر عربیلا بھٹو، سابق وفاقی وزیر حاجی حنیف طیب، نادرہ پنجوانی، سندہ مدرسہ یونیورسٹی کے ڈین ڈاکٹر آفتاب احمد شیخ، رجسٹرار غلام مصطفیٰ شیخ، اکیڈیمک ایڈوائزر ڈاکٹر عبدالحفیظ خان، چیئرپرسن ڈاکٹر عنبرین فضل، اسسٹنٹ پروفیسر آصف حسین سموں، اسسٹنٹ پروفیسر محمد نعیم احمد، اسسٹنٹ پروفیسر قرۃ العین نذیر، مشتاق گوپانگ اور جناب شفیق احمد نے اجلاس میں شرکت کی۔

