سندھ حکومت کے ساتھ نیب  صوبائی سطح پر ایک ٹاسک فورس بنائے گی:ڈی جی نیب

سندھ حکومت کے ساتھ نیب  صوبائی سطح پر ایک ٹاسک فورس بنائے گی: ڈی جی نیب

کراچی: ڈائریکٹر جنرل نیب کراچی شکیل احمد درانی اور ڈی جی نیب راولپنڈی وقار احمد چوہان آباد ہاؤس کراچی پہنچے جہاں آباد کے عہدیداران نے ان کا استقبال کیا۔

ڈائریکٹر جنرل نیب کراچی شکیل احمد درانی اور ڈی جی نیب راولپنڈی وقار احمد چوہان اور چیئرمین آباد محمد حسن بخشی،الائید پینل کے پیٹرن ان چیف محسن شیخانی اور عہدیداران نے تعمیراتی شعبے کو درپیش مسائل اور باہمی تعاون پر تبادلہ خیال کیا۔

سندھ حکومت کے ساتھ نیب  صوبائی سطح پر ایک ٹاسک فورس بنائے گی:ڈی جی نیب

چیئرمین آباد محمد حسن بخشی نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ آباد اور نیب کا رشتہ 13 سے 14 سالوں میں مضبوط ہوا،مختلف ادوار میں نیب کے کئی ڈی جی آئے یہ رشتہ مضبوط تناور درخت بن گیا۔نیب کے دی جیز سے ملاقاتیں کرتے رہتے ہیں۔2 سال میں محسوس کیا کہ نیب ایک مختلف ادارہ ہے۔اس ادارے میں بزنس کمیونٹی کو ریلیف اور کاروبار کے مواقع دیے۔ایک تقریب میں چیئرمین نیب نے ادارے کی پرفامنس سےاگاہ کیا۔5 زمینیں واگزار کرائی گئیں جس میں پارک کی زمینیں شامل ہیں۔چئیرمن نیب نے آباد کو ان زمینوں پر ملکر کام کرنے کیلئے دعوت دی جس کے مشکور ہیں۔زمینوں کے ٹائٹل کے مسائل حل کرنے کیلئے کوشاں ہے،لینڈ اونر سے زمینوں کے ٹائٹل کی منتقلی کیلئے نیب آگاہ کرےگا۔ امید ہےاس اقدام کے بعد بلڈرز پر نیب کے کیسز نہیں بنیں گے۔ اس اقدام کے بعد کراچی میں سرمایہ کار مطمئن ہوسکےگیں،

محمد حسن بخشی نے کہا کہ  نیب کے ادارے میں بھی اچھے برے لوگ موجود ہیں،اب حراساں کرنے کا کلچر امید ہے ختم ہوگا۔بزنس کمیونٹی اور نیب کے درمیان کمیٹی تشکیل دینے جارہے ہیں۔کمیٹی بننے سے معاملات کورٹ سے باہر حل کیے جاسکیں گے۔سالوں سے جو کیسز التوا کا شکار تھے انہیں حل کی طرف لے جارہے ہیں۔یہ نیب کا ایک مثبت اقدام ہے۔بلڈرز ہزاروں پلاٹس فروخت کرکے قبضہ نہیں دیتے۔ایسا نظام لارہےہیں جہاں بلڈرز فائل کی ڈبلنگ نہیں کرسکے گا۔زمینوں فلیٹوں کی فروخت و معاملات سنگین ہیں،لوگوں کی جمع پونجی لگی ہوتی ہے۔غلطیاں ہم سب سے ہوئیں ہیں غلطیوں کا حل نکالیں حل کی طرف جائیں۔ہمیں اپنی غلطیوں کو خود سیدھا کرنا ہوگا۔اگر بلڈر کسی الاٹی کے ساتھ زیادتی کرتا ہےتو غلطی مانیں۔تالی ایک ہاتھ سے نہیں دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے۔اداروں کو بھی اپنا کام کرنا ہوگا،ملیر لیاری تیسر ٹاؤن حکومت کےپروچیکٹ ہیں،40 سالوں سے لوگوں کو قبضہ نہیں ملا، یہ وہ غریبوں کے پلاٹ تھے جنہوں نے چوڑیاں بیچیں،یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے حکومت پر اعتماد کیا۔پاکستان کے عوام بہتری کی امید کھو رہےہیں۔ہم احتساب کیلئے تیار ہیں آباد کا ممبر غلطی کرے تو احتساب ہونا چاہیے۔ہمیں باعزت قوم کی طرح آگے بڑھنا ہوگا۔کراچی پاکستان کا اکنامک دل ہے۔ وفاقی اور صوبائی ادارے اس شہر کو اوون کریں۔پاکستان کی معیشت کو اوپر لے جانا ہےتو کراچی کے ساتھ کھڑے ہوں۔تمام اداروں کے سربراہان کو کراچی آنا ہوگا۔ سربراہان کراچی کے حالات کو سمجھنے کیلئےہر ماہ کراچی کا دورہ کریں

الائیڈ پینل کے سربراہ محسن شیخانی کی نے نے کہا کہ سالوں سےآباد کے پلاٹ فارم سے کوشش کررہےمہیں ڈیجیٹلائزنشن کی طرف جائیں۔ ہرآدمی چاہتا ہےاس ملک میں کام کریں۔پوری دنیا کے اداروں میں اتھارٹیز ڈیجیٹلائز ہیں۔ ہم بیرون ملک کام کررہے ہیں کبھی وہاں اداروں کے سربراہان کو نہیں دیکھا۔ملک کے حالات کو بہتر کرنا ہم سب کی زمہ داری ہے۔ڈیجیٹلائزیشن سے80 فیصد مسائل حل ہو جائیں گے۔بورڈ آف ریونیو میں زمینوں کے مسائل کے انبار ہیں۔حکومت ہی پوسٹنگ اور ٹرانسفر کررہی ہوتی ہے۔ایل ڈی اے، ایم ڈی اے اور دیگر اداروں کا آڈٹ نہیں ہوتا۔ اگر آڈٹ نہیں ہوگا تو چالان اصلی ہیں یا جعلی کسی کو علم نہیں ہوگا۔4 سال سے میں کراچی شہر میں کام نہیں کرسکا۔ جو بچے بیرون ملک سے پڑھکر آئے وہ کام نہیں کرنا چاہتے۔اب ہم کم آمدنی والے پروجیکٹ کیلئے پنڈی میں کام کررہے ہیں۔ پالیسی کی بار بار تبدیلی سے 80 فیصد لوگ کام نہیں کر پارہے۔تعمیراتی صنعت سے 72 صنعتییں منسلک ہیں۔ہمیں اپنے آپ کو بہتر کرنا ہے، ہمیں اکانومی کے حالات سے بھی لڑنا ہے۔ہمیں یقین ہے ملک ہمارا ہے تو اس ملک میں بہتری بھی آئے گی۔

سندھ حکومت کے ساتھ نیب صوبائی سطح پر ایک ٹاسک فورس بنائے گی: ڈی جی نیب

ڈی جی نیب کراچی شکیل احمد درانی نے کہا ہے کہ ہم تھرڈ پارٹی کو اکیوز نہیں وکٹم کی طرح ٹریٹ کریں گے۔آباد کی دیرینہ خواہش ہے سرکاری زمینوں کا آکشن کیا جائے۔ نیب کے قانون میں ترمیم کے بعد بہت سارے کیسز متاثر ہوئے۔ جس کے باعث لوگوں میں تشویش تھی، بہت سارے سوالوں کا جواب ہمارے پاس ہوتاہے اور بہت سارے سوالوں کا جواب ہمارے پاس نہیں ہوتا، چیئرمین نیب نے کہاہے کہ آپ کوکسی بھی صورت میں حراساں اورپریشان نہیں کرنا،وزیراعلی سندھ کے ساتھ ایک ملاقات ہوئی تھی،اس میں اسٹیٹ لینڈ، بلڈرز اور ڈیولپرز کے مسائل کااحاطہ کیاگیا

انہوں نے کہا کہ چیئرمین نیب اور وزیراعلیٰ سندھ نے زمینوں کےمسائل حل کرنے کے عزم کااظہارکیاگیا،آج اس ملاقات میں حکومت سندھ کی بھی نمائندگی ہونی چاہیے، سندھ حکومت کے ساتھ نیب  صوبائی سطح پر ایک ٹاسک فورس بنائے گی جس کے ٹی اوآرز منظور ہوگئے ہیں۔تھرڈ پارٹی کومجرم تصور نہیں بلکہ گواہ کے طورپر تصور کیاجائے گاماسٹیٹ کی 1عشاریہ 5 ٹریلین روپے مالیت کی زمین واہ گزار کرالی ہے،حکومت  کی 10ٹریلین مالیت کی  زمین واہ گزار کرانی ہے جس پرکام 70فیصد تک ہوچکاہے،حکومت کی یہ زمینیں کسی وجہ سے اداروں کودی گئی تھیں،نیب کا ایک اویرنس ونگ موجود ہے،نیب کی ایک کمیٹی لینڈ کے حوالے سے بنائی گئی۔صوبائی حکومت کو اس حوالے سے ریکمنڈز دےدی گئی ہیں۔

 

پلاٹ کی رقم ادائیگی کے باوجود فائلوں کاناملنا یہ مسئلہ اسلام آباد اور پنڈی میں زیادہ ہے: ڈی جی نیب

ڈی جی نیب اسلام آباد پنڈی وقار احمد چوہان نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ یہاں کے بلڈرز سے ملنا بہت ضروری تھا جو بھی متاثرہ لوگ ہیں فائل مل جاتی ہے گھر نہیں ملتے،اسلام اباد پنڈی میں بھی یہ مسئلہ درپیش ہے، متاثرہ لوگوں کے حقوق اور بلڈرز کے سہولیات کی فراہمی کے لئیے اقدامات کئیے جائیں۔قوانین کو آسان بنایا جائے جس سے بزنس کمیونٹی کی ہراسمنٹ میں کمی آئے اور بلڈرز کے لئیے بہترین ماحول کی فراہمی ممکن ہوسکے۔چیئرمین میب کی ہدایت ہر ان لائن پراپرٹی شروع کردی گئی۔ہائوسنگ سوسائٹی کے لے پلانز ایک کلک پر موجود ہیں۔ پلاٹ کی رقم کی ادائیگی ہونے کے باوجود فائلوں کاناملنایہ مسئلہ اسلام آباد اور پنڈی میں زیادہ ہے،اس مسئلہ پر ایک کمیٹی بنائی تھی،چیئرمین نیب کی ہداہت پر ایک زبردست ڈیجیٹائیزیشن کااقدام اٹھایاہے۔اس مدمیں آن لائن پراٹی انفارمیشن سسٹم بنایاہے جس میں ملک کے مختلف شہروں کے منظورشدہ لے آئوٹ پلان ایک کلک پرموجودہے۔اس سسٹم کوجلد متعارف کراجائے گا۔زمینوں کی الاٹمنٹ کے حوالےسے واقف ہیں۔حال ہی میں 8 ہزار 2 سو سے زائد افراد کو الاٹمنٹ کےلیٹر دیے ہیں۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں