SSGC نے بلوچستان میں 960 اور حیدرآباد میں 100 غیر قانونی گیس کنیکشن منقطع کردیے

ایس ایس جی سی نے بلوچستان میں 960 اور حیدرآباد میں 100 غیر قانونی گیس کنیکشن منقطع کردیے

سوئی سدرن گیس کمپنی (SSGC) نے اپنے دائرہ کار کے صوبوں سندھ اور بلوچستان میں گیس چوری کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنا رکھی ہے۔ ایس ایس جی سی کے سیکیورٹی سروسز اور کاؤنٹر گیس تھیفٹ آپریشنز ڈپارٹمنٹ (SS&CGTO)، کسٹمر ریلیشنز ڈپارٹمنٹ (CRD) اور ریکوری ڈپارٹمنٹ نے ساتھ مل کر ایسے علاقوں کی نشاندہی کے لیے باقاعدہ سروے شروع کردیا ہے جہاں گیس چوری عام ہے، اور اس معاشرتی ناسور کو ختم کرنے کے لیے چھاپہ مار کارروائیاں جاری ہیں جو شہریوں کی پُرامن زندگیوں میں خلل ڈال رہی ہیں۔

حال ہی میں کمپنی کی ٹیموں نے بلوچستان میں بڑے پیمانے پر چھاپے مارے، جہاں 960 غیر قانونی کنیکشنز موقع پر ہی پکڑے اور منقطع کر دیے۔ ایس ایس جی سی کی مین ڈسٹری بیوشن لائن سے براہِ راست اوور ہیڈ اور زیرِ زمین کلیمپ لگا کر گیس چوری کی جا رہی تھی اور متعدد گھروں کو سپلائی فراہم کی جا رہی تھی۔ تمام غیر قانونی سامان اور آلات موقع پر ہی ہٹا دیے گئے اور اس سماجی جرم میں ملوث تمام عناصر کے خلاف قانونی دعوے دائر کیے جائیں گے۔

اسی دوران، حیدرآباد کے ٹنڈو آغا سٹی علاقے میں شیڈول کے مطابق زیرِ زمین لیک سروے کے دوران گیس رِساؤ کے نشانات ملے۔ کھدائی پر پچاس سے زائد غیر قانونی زیرِ زمین کلیمپ سامنے آئے جو ایس ایس جی سی کی پائپ لائن پر نصب کیے گئے تھے اور سو سے زیادہ گھروں کو گیس سپلائی کر رہے تھے۔ یہ کلیمپ ہٹا دیے گئے، ضروری مرمت و دیکھ بھال کا کام مکمل کیا گیا اور تمام غیر قانونی کنیکشنز منقطع کر دیے گئے.

گیس چوری معاشرے کے خلاف ایک سنگین جرم ہے۔ ایس ایس جی سی اپنے معزز صارفین سے اپیل کرتی ہے کہ وہ گیس چوری کے واقعات کی اطلاع دیں تاکہ اس ناسور کا خاتمہ کیا جا سکے۔ صارفین 1199 (آفیشل ہیلپ لائن) پر اطلاع دے سکتے ہیں یا کسی بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر پیغام بھیج سکتے ہیں.

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں