آباد نے گوادر کو فوری فعال کرنے اور ٹیکس فری زون بنانےکا مطالبہ کردیا
کراچی: ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز (آباد) کے چیئرمین حسن بخشی نے گوادر کو فوری فعال کرنے اور گوادر کو ٹیکس فری زون اور اسمارٹ سٹی بنانے کے لیے سی پیک فنڈنگ سے رقم خرچ کرنے سمیت امن وامان بحال اور مقامی لوگوں کو منصوبوں میں شامل کرنے مطالبہ کردیا ہے
آباد ہاؤس کراچی میں سینئر وائس چیئرمین سید افضل حمید،وائس چیئرمین طارق عزیز، چیئرمین سدرن ریجن احمد اویس تھانوی،گوادر پر سب کمیٹی کے کنوینر افنان قریشی اور آباد کے سابق چیئرمین جنید اشرف تالو کے ہمراہ پریس کانفرنس چیئرمین آباد محمد حسن بخشی نے کہا کہ گوادر پاکستان کی ترقی وخوشحالی کا ذریعہ ہے، گوادر پاکستان کی تاریخ میں ایک سنہری موقع کے طور پر سامنے آیا ہے، مگر بدقسمتی سے اب تک اس سے وہ فائدہ نہیں اٹھایا جا سکا جس کی توقع تھی۔ اگر حکومت نے گوادرکو فعال کرنے کے لیے فوری موثراقدام نہ کیے تو گوادر پاکستان کو وہ نتائج نہیں دے پائے گاجن کی اس وقت پاکستانی قوم کو سخت ضرورت ہے۔یہ بات انھوں نے
حسن بخشی نے کہا کہ’جس طرح دنیا کے کئی ممالک کی معیشتیں سیاحت پر چلتی ہیں، اسی طرح گوادر بھی پاکستان کے لیے گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے۔ لیکن شرط یہ ہے کہ اس کی ترقی کو قومی ترجیحات میں سرفہرست رکھا جائے۔۔چیئرمین آباد نے کہا کہ 2014ء میں چین نے پاک-چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت 45 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی تھی مگر گوادر کو محض 80 کروڑ ڈالر ملے جبکہ باقی سرمایہ کاری پاور سیکٹر خصوصاً آئی پی پیز میں چلی گئی۔ اگر اس وقت گوادر کو مکمل طور پر ترقی دی جاتیں تو آج پاکستان کے لیے چین اور وسطی ایشیائی ممالک تک کارگو کی ترسیل نہایت آسان ہو جاتی اور برآمدات کے دروازے کھل جاتے۔
انھوں نے کہا کہ گوادر کی سب سے بڑی رکاوٹ سیکیورٹی کا مسئلہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دشمن عناصر پاکستان کے خلاف سازشیں کرتے ہیں اور گوادر کو غیر فعال رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔پاک افواج کے جوان روزانہ اپنی جانوں کی قربانی دے رہے ہیں لیکن حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ مقامی آبادی میں سرمایہ کاری کر کے وہاں کے مسائل حل کرے، تاکہ لوگ خود اپنے شہر کی حفاظت کو ترجیح دیں،چیئرمین حسن بخشی نے کہا کہ گوادر کا نیا ایئرپورٹ تاحال آپریشنل کیوں نہیں گیا اگر بین الاقوامی پروازیں ممکن نہیں تو کم از کم مقامی ہی شروع کی جائیں تاکہ شہر کی تنہائی ختم ہو اور سرمایہ کاروں کو سہولت مل۔
چیئرمین آباد نے کہا کہ مقامی آبادی کو نظر انداز نہ کیا جائے،گوادر کی ترقی سب سے پہلے مقامی آبادی کی ترقی ہے۔’یہ غلط فہمی دور ہونی چاہیے کہ بیرونی سرمایہ کار گوادر پر قبضہ کر لیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ سرمایہ کاری سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور مقامی معیشت میں جان آئے گی۔ انھوں نے زور دیا کہ پہلا حق ہمیشہ مقامی لوگوں کا ہے، لیکن قومی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کا خیرمقدم کیا جانا چاہیے۔چیئرمین آباد نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتیں گوادر کے معاملے میں ناکام رہی ہیں۔ ہمیں گوادر کے ذریعے یو اے ای اور سنگاپور کی طرح ایک ٹرانزٹ کنٹری بننا چاہیے تھا، لیکن افسوس کہ آج تک کوئی ٹھوس سرگرمی نظر نہیں آ رہی۔
انہو نے وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہاحسن اقبال نے گوادر کے لیے صرف تقریریں کی ہیں، عملی اقدامات کہیں نظر نہیں آتے۔ گوادر میں کام کرنے والے چاروں صوبوں کے بلڈرز آج دیوالیہ ہونے کے قریب ہیں کیونکہ حکومتی اسکیمیں مکمل نہیں ہو پا رہیں۔ لینڈ ریکارڈ کی کمپیوٹرائزیشن پنجاب کے علاوہ کہیں موجود نہیں، جو سرمایہ کاروں کے لیے تشویشناک ہے۔ اگر یہ صورت حال برقرار رہی تو نہ صرف سرمایہ کاری رکے گی بلکہ پہلے سے سرمایہ لگانے والے بھی اپنے ہاتھ جلاتے رہیں گے
چیئرمین آباد حسن بخشی نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات کے بعد کراچی میں آباد کی کئی زمینوں پر قبضے ختم ہوئے اور 8 سے 10 اراضیاں واگزار ہوئیں۔ ہمارا سسٹم زنگ آلود ہو چکا ہے لیکن پہلی بار اینٹی کرپشن نے ان عناصر کے خلاف کیسز فائل کیے ہیں جنھوں نے اصل مالکان کے کاغذات میں غیر قانونی تبدیلیاں کی تھیں، انھوں نے کہا کہ گوادر کی ترقی خطے کی ترقی ہے اور یہ پاکستان کے لیے روزگار کا سب سے بڑا ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ حکومت آئندہ 2 سے 5 سال میں گوادر کو مکمل طور پر آپریشنل کرنے کا واضح روڈ میپ دے۔ ہم حکومت سے گوادر کے حوالے سے ایک کلیئر پالیسی کا مطالبہ کرتے ہیں تاکہ سرمایہ کاروں کو اعتماد ملے اور مقامی آبادی حقیقی معنوں میں ترقی کی راہ پر گامزن ہو۔چیئرمین آباد حسن بخشی نے اپنی پریس کانفرنس میں واضح کیا کہ گوادر محض ایک بندرگاہ نہیں بلکہ پاکستان کی معیشت کا مستقبل ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر حکومت سنجیدگی سے اقدامات کرے تو گوادر دنیا بھر کے لیے تجارتی اور سیاحتی مرکز بن سکتا ہے، ورنہ یہ منصوبہ بھی محض تقریروں اور وعدوں کی نذر ہو جائے گا۔
اس موقع پر سابق چیئرمین آباد جنید اشرف تالو نے کہا کہ 2002 سے ابتک گوادر میں پانی اور بجلی نہیں ہے۔بلوچستان کے عوام نے اسمارٹ سٹی کیلئے اپنی سرمایہ کاری کی،پانی اور بجلی کی سہولت مل جائے تو بلوچستان بلخصوص گوادر ترقی کرے گاانھوں نے کہا کہ تمام صوبوں کو یکجاء ہوکر گوادر کیلئے سوچنا ہوگا۔ وزیراعظم کہتے ہیں گوادر کو فعال کریں گے۔ جنید اشرف تالو نے کہا کہ مکران کوسٹل ہائی وے پر ریسٹ ہاؤس کے لیے منظوری دی گئی، لہذاریسٹ ہاؤسز کیلئے بجٹ بنایا جائے۔انھوں نے بلوچستان حکومت سے مطالبہ کہاکہ وہ اپنی اسکیموں میں فنڈز لگائیں اور تعمیرات کا آغاز کریں۔انھوں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ 35 سال کیلئے گوادر میں فری زون بنایا جائے تاکہ سرمایہ کاری میں اصافہ ہو۔
