
پي اين ايس سي کی بلڈنگ کے سامنے سے گزر کر جیسے ہی میری کارجناح برج پر دوڑنے لگی تو بائیں جانب کیماڑی کی سمت میں ایسٹ وہارف (بندرگاہ) صاف نظر آنے لگی۔ مختلف ملکوں کے کئی جہاز سمندر میں ایسا منظر پیش کررہے تھے جیسے کسی زمانے میں پرانی سڑک کے ذریعے ہالا سے حیدرآباد آنا ہوتا تھا، تو پھلیلی نہر میں بھینسیں نظر آتی تھیں۔ اب معلوم نہیں وہ پرانی سڑک ہے بھی یا نہیں، اہم بات یہ کہ پھلیلی نہر میں پانی بھی ہے یا نہیں!
بہرحال میرے ساتھ بیٹھی ہوئی میری بیٹی ”مریم جیجل“ نے ایک جہاز کی سمت اشارہ کرتے ہوئے اپنے تیرہ سالہ بیٹے احسن سے کہا
”دیکھو بیٹا وہ جہاز مالاکنڈ ہے۔ جب میں سات برس کی تھی تو تمہارے نانا کے ساتھ اس جہاز پر رہتی تھی۔”
اس کا اشارہ میری جانب تھا۔ میں نے لمحے بھر کے لیے سڑک سے نظر ہٹا کر بائیں جانب بندرگاہ کی سمت دیکھا۔ مختلف جہازوں کی بھیڑ میں میر ی نظر نے اس جہاز کو فوراً تلاش کرلیا جس کی چمنی (funnel) پر پی این ایس سی لکھا تھا۔ اس کے اگلے حصے پر لکھا ہوا ”ایم. وی. مالاکنڈ“ دور ہی سے پڑھا جاتا تھا۔ جہاز کی حالت سے ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے وہ جہاز کسی بپھرے ہوئے سمندر میں یا انتہائی تیز و تند طوفانی موسم میں سفر کرکے کراچی پہنچا ہے۔ اس کا جگہ جگہ سے رنگ اکھڑا ہوا تھا۔

”آئندہ ہفتے اس جہاز کو اسکریپ کیا جائے گا۔” میری بیٹی نے میرے نواسے کو مزید بتایا.
میں اس جہاز کو زیادہ دیر تک نہ دیکھ سکا۔ میں نے اپنی کار کو کنٹرول میں رکھنے کی کوشش اور کامیاب رہا، لیکن اپنی کیفیت پر قابو نہ پاسکا، یکا یک میرے سامنے کا منظر دھندلانے لگا۔ میری آنکھوں میں یادوں کی دھند اتر آئی اور آنسو بن کر بہہ نکلی۔ دائیں ہتھیلی سے آنکھیں پونچھتے ہوئے مجھے بے حد حیرانگی ہوئی۔ کیا یہ آنسو خوشی کے ہیں۔۔۔؟ خوشی اس بات کی کہ ایک جہاز جسے جاپان کے شپ یارڈ نے ہماری جہاز راں کمپنی کے لیے دس سال کی مختصر لائف ٹائم کے لیے بنایا، اسے ہم نے ایک ماتمی گھوڑے کی طرح بہتر دیکھ بھال کرکے تیس برس تک چلایا۔
یا انہیں رنج و افسوس کے آنسو کہنا چاہیے؟ دکھ اور رنج اس بات کا کہ وہ جہاز اول تا آخر میرے سامنے تیار ہوا۔ مکمل ہونے کے بعد اس کی ڈلیوری (Delivery) یعنی شپ یارڈ سے نکل جہاز مالکان کے حوالے بھی میرے سامنے ہوا۔ میں پہلے سفر (Maiden Voyage) میں اس جہاز کا چیف انجینئر رہا۔ اس کے بعد بھی میں ا س جہاز کو سوئز کینال سے گزارکر یا کیپ آف گڈ ہوپ سے یورپ اور افریقہ کی مختلف بندرگاہوں تک لے گیا۔۔۔ اور آج اس جہاز کی موت کی گھڑیاں قریب آگئی ہیں۔ اب وہ چند دنوں کا مہما ن ہے، جسے ٹکڑے ٹکڑے کیا جائے گا۔

کیا میرے ان آنسوؤں کو ”ناستلجیا” کے بھی اشک کہا جاسکتا ہے؟ ناستلجیا کے لیے ملئی زبان میں لفظ "Rindu”کہا جاتا ہے، لیکن افسوس سندھی اور اردو میں فِکشن، رومانس اور بائیکات جیسے الفاظ کی طرح Nostalgiaکے مترادف کوئی لفظ موجود نہیں ہے۔
ناستلجیا کیا ہے؟ بقول ایک انگریز کے:
"A longing for the past, one often feels in an idealized form. "
جی ہاں! میں اس جہاز کا چیف انجینئر تھا جسے ایک زمانے میں نیا اور جدید اور ’موسٹ ماڈرن‘ جہاز کہا جاتا تھا۔ جاپان کے شہر ٹوکیو میں واقع مشہور شپ یارڈ ’اشیکاوا ہریما ہیوی انڈسٹری (IHI) میں اس جہاز کو ہماری جہاز راں کمپنی کے آرڈر پر تیار کیا گیا تھا۔ (یہ شپ یارڈ آج بھی جاپان میں مشہور ہے) میری فیملی کے لیے اس جہاز میں سمندری سفرآخری تھا۔ کیونکہ اس دوران بچے بڑے ہوچکے تھے اور ان کی تعلیم کی خاطر مجھے سمندری ملازمت کو خیر باد کہہ کر ملائیشیا میں کنارے کی جاب کرنی پڑی۔ آخری جہاز ہونے کے سبب میری بیگم اور بچوں کو ایم وی مالاکنڈ ہمیشہ یاد رہتا ہے۔ تازہ خبروں کے مطابق پانچ سو فٹ طویل اور اٹھارہ ہزار ٹن وزنی یہ مالاکنڈ جہاز اپنے آخر ی سفر پر اس قبرستان کی جانب روانہ ہونے والا ہے جہاں سے کوئی واپس نہیں لوٹا۔

جب کوئی پالتو جانور دودھ دینا بند کردیتا ہے یا کوئی کسان جب اپنے جانور کو زمین پر ہل چلانے یا بوجھ ڈھونے کے قابل نہیں سمجھتا ہے تو وہ اس بوڑھے اور ناکارہ جانور سے جان چھڑانے کے لیے اسے فروخت کردیتا ہے ۔ اس کے عوض ملنے والی رقم کو وہ کافی سمجھتا ہے اور مطمئن رہتا ہے۔ قصائی اس بوڑھے جانور کے گوشت کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے مختلف سستے قسم کے ہوٹلوں کو پہنچاتا ہے۔ اس کی کھال، چمڑہ فیکٹریوں میں پہنچ جاتی ہے، جس سے جوتے وغیرہ تیار کیے جاتے ہیں۔
سمندر پر سینہ تان کر چلنے والے جہازوں کی بھی یہی کہانی ہے۔ جب تک یہ نئے ہوتے ہیں، مالکان کو کما کر دیتے ہیں، تب تک ان کی بڑی دیکھ بھال کی جاتی ہے۔ ہر کارآمد جہاز کو دلہن کی طرح سجا سنوار کر رکھا جاتا ہے۔ شاید یہی سبب ہے کہ جہاں انگریزی میں ہر غیر جاندار چیز کے لیے لفظ It استعمال ہوتا ہے، وہیں جہاز کے لیے She استعمال ہوتا ہے۔ چند برس کی سروس کے بعد جب مالکان یہ محسوس کرتے ہیں کہ جہاز کی آمدنی سے زیادہ اس کی مرمت وغیرہ میں خرچ ہونے لگا ہے، جہاز چلانے والوں کی تنخواہیں، تیل، پانی اور اسے سمندر میں چلانے کے قابل رکھنے کے لیے زیادہ رقم خرچ ہونے لگی ہے تو ایسے میں وہ خوب صورت جہاز ان کے لیے چلتے پھرتے فائیو اسٹار ہوٹلز نہیں بلکہ لوہے کے ٹکڑوں سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتے۔ انہیں زیادہ وقت تک روکے رکھنے سے زنگ کے علاوہ کیا مل سکتا ہے۔ لہٰذا ایسے جہاز کو اسکریپ میں فروخت کرنے کا اعلان کیا جاتا ہے۔ لوہا، تانبا اور پیتل میں دلچسپی رکھنے والے کباڑی ایسے جہاز کا سُن کر اسے دیکھنے پہنچ جاتے ہیں۔ اس دوران میں وہ یہ نہیں سوچتے کہ اس جہاز میں کمروں کی تعداد کتنی ہے؟ یہ اٹلانٹک یا پیسفک سمندر میں سفر کرنے کے قابل ہے یا نہیں۔۔۔؟ یہ جہاز خط استوا کے گرم اور شمالی سمندر کے سرد علاقوں میں چل سکے گا یا نہیں؟ جہاز کے مختلف پمپوں اور ڈیک پر اعلیٰ قسم کا رنگ کیا ہوا ہے یا عام۔۔۔؟ انہیں ان چیزوں سے کوئی غرض نہیں ہوتی۔ وہ صرف یہ دیکھتے ہیں کہ جہاز میں کتنی مقدار میں دھاتیں موجود ہیں۔

جس طرح قصاب بکرا خریدتے وقت یہ نہیں دیکھتے کہ وہ کس نسل سے تعلق رکھتا ہے یا کس مالک کے پاس رہا ہے۔ وہ صرف یہ دیکھتے ہیں کہ اس میں گوشت کتنی مقدار میں موجود ہے۔ اسی طرح خواہ کوئی جہاز مسافروں کے طور پر دنیا کے بادشاہوں، شہزادیوں اور ملکاؤں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچاتا رہا ہو یا ٹیوٹا اور ڈاٹسن کمپنی کی کاریں ڈھوتا رہا ہو۔ خواہ کوئی جہاز کسی ملک کا فلیگ شپ ہی کیوں نہ ہو (یعنی بہت بڑی عزت والا) اس جہاز پر فائیو اسٹار ہوٹل کے باورچی تھے۔۔۔ ان کی نظر میں یہ سب باتیں بے معنیٰ ہیں۔ اسکریپ ڈیلرز، جہاز کی آن بان اور شان میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے۔ البتہ وہ اس کی جان کو للچائی ہوئی نظر سے ضرور دیکھتے ہیں کہ اس میں سے کون کون سی اور کتنی مقدار میں دھاتیں حاصل ہوسکتی ہیں۔
جہاز کی نیلامی کے بعد نئے خریدار اسے گڈانی لے جاتے ہیں جو ہمارے ملک میں جہازوں کا قبرستان ہے۔ گڈانی کراچی شہر کے مغرب میں صوبہ بلوچستان کے سمندری ساحل پر واقع ہے۔ یہاں بوڑھے، غیر ضروری اور ناکارہ جہازوں کو لایا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں یہ کوشش کی جاتی ہے کہ جہاز کو زیادہ سے زیادہ ساحل کی طرف یعنی خشکی کے قریب لایا جائے تاکہ مزدور آسانی سے اس کو ٹکڑوں میں تبدیل کرکے ٹرکوں کے ذریعے کباڑی مارکیٹ روانہ کرسکیں۔ لطف کی بات یہ کہ اس کام کے لیے خصوصی تجربہ کار کیپٹن اور انجینئر مقرر ہوتے ہیں وہ خاص وقت پر یعنی جب سمندر چڑھا ہوا ہوتا ہے تب انجن کو پوری رفتار سے چل اکر جہاز کو سمندر کی بجائے ساحل کی جانب لے آتے ہیں۔ یہاں تک کہ وہ زمین میں دھنس جاتا ہے۔ جب سمندر پر مد (High Tide) کی کیفیت ختم ہوجاتی ہے اور پانی پیچھے چلاجاتا ہے اسے جزر کا حالت (Low Tide) کہا جاتا ہے، تب جہاز ریت میں دھنسا ہوا خشکی پر کھڑا رہ جاتا ہے۔ اگر تھوڑا پانی ہوتا بھی ہے تو جہاز کو توڑنے والے ویلڈر، گیس کٹر اور دیگر مزدوروں کے کام میں خلل نہیں پڑتا۔

جس طرح قصاب تیز چھروں سے جانور کو بوٹی ب
وٹی میں تبدیل کردیتے ہیں اسی طرح ویلڈر اور گیس کٹر گرم اور تیز شعلے سے جہاز کی آہنی پلیٹون کو مختلف ٹکڑوں میں الگ الگ کردیتے ہیں۔ جہاز کی مشینریاں، پمپ، کمپریسر، جنریٹر، کیبنوں کا فرنیچر، ڈائننگ سیلون کی کراکری حتیٰ کہ ٹائلٹ کے کموڈ، بیسن، نہانے کے خوبصورت ٹب فروخت کے لیے شیر شاہ کی سیکنڈ ہینڈ مارکیٹ میں پہنچ جاتے ہیں۔ ان کے علاوہ آہنی پلیٹیں اور پائپ وغیرہ ملک کی رولنگ ملز کو روانہ کردیئے جاتے ہیں۔ جہاں انہیں الیکٹریکل بھٹیوں میں پگھلا کر مختلف اشکال یعنی گرڈر، ٹی آئرن اور سرئیے وغیرہ میں تبدیل کردیا جاتا ہے۔
ہمارے ملک میں گڈانی کے مقام پر واقع جہازوں کا یہ قبرستان دنیا کے بڑے اسکریپ یارڈ میں سے ایک ہے۔ یہاں تاریخی اور بڑا جہاز کینبیرا بھی اسکریپ ہونے کے لیے لایا گیا تھا اور اب چند دنوں کے بعد یہ جہاز ایم وی مالا کنڈ (موٹر ویسل مالا کنڈ) بھی اجل کا شکار ہونے والا ہے۔ بیچنگ کیپٹن، اسے بندرگاہ سے نکال کر گڈانی کے ساحل پر جا پھینکے گا اور اس جہاز کا وہ آخری سفر ہوگا، جہاں سے آج تک کوئی جہاز واپس نہیں آیا! میں چشم تصور سے اس جہاز کو ٹکڑے ٹکڑے ہوکر منتشر ہوتا دیکھ رہا ہوں۔ اس کے وجود کے حصے نہ جانے کہاں کہاں پہنچیں گے اور کیا صورت اختیار کریں گے؟

تیس برس قبل 1979ء میں اس جہاز مالاکنڈ کا وجود محض لکیروں اور نقطوں کی صورت میں ڈرائنگ کے صفحات پر موجود تھا_ اس کی تیاری کے دوران اس کی دیکھ بھال کے لیے اور بعد میں اس جہاز کو چلانے کے لیے مجھے چیف انجینئر کے طور پر تعینات کیا گیا تھا۔ اس وقت میں ملک کی قومی جہاز راں کمپنی کے ایک اور جہاز ”ایم وی چناب“ کا چیف انجینئر تھا۔ میرا وہ جہاز جیسے ہی یورپ اور افریقہ کے مغربی کنارے کی بندرگاہوں کا طویل سفر کرکے کراچی پہنچا تو ہیڈ آفس کی جانب سے مجھے نئی اسائنمنٹ کا لیٹر ملا۔ ایم وی چناب پر میری فیملی بھی میرے ساتھ تھی۔ سردست انہیں اپنے آبائی شہر هالا چھوڑ کر فی الحال میں تنہا ہی جاپان روانہ ہوگیا۔
جب ٹوکیو کے ناریتا ہوائی اڈے پر پی آئی اے کے جہاز نے لینڈ کیا تو اس وقت جاپان کی سرزمین پر بہار کی پہلی بارش ہورہی تھی۔ شاید ایسی ہی بارش کے لیے جاپان کے اٹھارویں صدی کے شاعر ”یوسا بوسون” نے اپنی ہائیکو میں کہا ہے:
Ike to kawa
Hitotsu ni narinu
Haru no amei.
تالاب اور ندی (ایکی توکاوا)
دونوں جل تھل ہوگئے ( ہتاتسونی ناری نو)
بہار کی بارش میں! (ہارونوامی)
ہمارے ہاں نہ تو ایسے تالاب ہیں اور نہ ہی ندیاں، لے دے کر ایک ہی ندی ہے جواس وقت بہتی ہے جب ہمالیہ کی برف پگھلتی ہے۔ ندیاں اور تالاب بنگال، ملائیشیا اور جاپان جیسے ملکوں میں کثرت سے ہیں۔ صبح بارش ہوئی تو دریا کا پانی کناروں کو چھونے لگتا ہے اور دوپہر میں خالی خالی۔ بہر حال میں ٹیکسی کی کھڑکی سے ٹوکیو شہرکے درمیان میں سے گزرنے والی ندی ’سمیدہ‘ کو دیکھتا رہا۔ وہ کہیں بھی لبا لب بھری ہوئی نہ تھی۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ بارش کچھ زیادہ نہیں ہوئی تھی۔ بہر حال یوسا بوسون، ماتسو باشو اور کوبا یاشی ایسا میرے پسندیدہ جاپانی شاعر ہیں. شاید آپ نے صرف یہی سنا ہو کہ جاپان کیمرے، کاروں اور کمپیوٹرز کا ملک ہے لیکن یہ ملک ادب، شعرو شاعری اور ثقافت سے بھی مالا مال ہے۔
ٹوکیو میں میری فیملی کے آنے تک میری رہائش شپ یارڈ کی گیسٹ ہاؤس میں رہی جو ٹوکیو کے مرکزی علاقے گنزا میں سمیدہ ندی کے قریب واقع ہے۔ مکمل طور پر آٹومیٹک تیار ہونے والے اس جہاز کی بنیاد، یعنی تلے کی آہنی پلیٹ (Keel) رکھی جانے کی رسم ادا کی جا چکی ہے۔ جاپانی زبان میں کسی حد تک سوجھ بوجھ، آٹومیشن اور انسٹرومینٹیشن جیسے موضوعات میں Additional تعلیم ہونے کے سبب ٹوکیو کی اس شپ یارڈ میں کام کرنے والے مقامی مزدوروں سے گھل مل جانا میرے لیے مشکل ثابت نہیں ہوا۔
اس جہاز کے کئی سسٹم کمپیوٹرائزڈ نوعیت کے تیار کیے گئے تھے۔ اس دور میں جس حد تک سائنس اور ٹیکنلوجی نے ترقی کی تھی اس حد تک ایم وی مالاکنڈ جہاز کی تیاری میں ہر چیز کو آٹو میٹک بنایا گیا تھا۔ گویا شام ہونے کے بعد جہاز کے انجینئر انجن روم کو تالا لگا کر اپنے کیبن میں آرام کرتے رہیں۔ رات بھر جہاز سمندر میں چلتا رہے گا۔ اگر تیل ایک ٹنکی ختم ہوجائے تو دوسری ٹنکی کا وال خود ہی کھل جائے۔ ایک جنریٹر کسی سبب سے کام کرنا بند کردے تو دوسرا اسٹینڈ بائی جنریٹر نہ صرف آٹومیٹک چلنا شروع کردے بلکہ لوڈ پر چڑھ جائے (اس بات کو وہ لوگ بہتر انداز سے appreciate کرسکتے ہیں جو الیکٹریسٹی سے تعلق رکھتے ہیں)۔
اگر نصف شب کے لگ بھگ جہاز خط استوائی گرم سمندر اور موسم سے گزر رہا ہو تو جہاز کا مرکزی ایئر کنڈیشن انسانی جسم کو فرحت پہنچانے کی حد تک ٹھنڈک بڑھا سکتا ہے، اگر جہاز کے کسی بھی حصے میں آگ لگ جائے تو اس کے شعلے اٹھنے سے پہلے ہی پانی اور فوم کے ذریعے آگ بجھائی جا سکتی ہے۔
بہر حال روزانہ سینکڑوں مزدور اور انجینئر ویلڈر اور مستری الیکٹریشن اور مکینک، سپر وائزر اور ڈرافٹ مین، کارپینٹر اور پلمبر اس جہاز پر کام کرتے رہے۔ مختلف آہنی حصوں کو جوڑ کر سامان رکھنے کے گودام، تیل اور پانی کی ٹنکیاں، رہائشی کیبن، مشینوں اور نیویگیشن کے لیے انجن روم اور کنٹرول روم تیار کرکے جہاز کو چھ ماہ میں مکمل کیا گیا۔ جہاز کے مکمل ہونے سے ایک ہفتہ قبل میری مدد کے لیے کراچی ہیڈ آفس کی جانب سے چند میرین انجینئر، الیکٹریکل انجینئر اور ریفریجریٹر انجینئر بھی جاپان پہنچ گئے۔ شپ یارڈ کی طرف سے جہاز کی ڈلیوری ہونے سے ایک دن قبل جہاز کے لیے باقی عملہ بھی کراچی سے ٹوکیو پہنچ گیا۔ ٹوکیو میں موجود ہمارے مقامی جہاز راں آفس اور سفارت خانے کی جانب سے جہاز کی ڈلیوری، جہاز پر پرچم کی تبدیلی (یعنی جاپانی جھنڈا اتار کر پاکستانی پرچم لہرائے جانے) کی رسمیں انتہائی دھوم دھام سے منائی گئیں۔
رسمی طور پر جہاز ہمارے حوالے ہونے کے بعد ہم اسے شپ یارڈ کی جیٹی اور پھر ٹوکیو کی بندرگاہ سے نکال کر قریبی شہر یوکوہاما کی بندرگاہ میں لے آئے وہ گویا ہماری First port of call تھی۔
میں نے اس سے قبل بھی چیف انجینئر کی حیثیت سے کئی جہاز چلائے تھے لیکن کسی فیورٹ بچے کی طرح مالاکنڈ جہاز میرے لیے خاص اہمیت رکھتا تھا۔ اس جہاز سے میری دلی وابستگی کا ایک سبب یہ بھی تھا کہ وہ شروع سے آخر تک میرے سامنے تیار ہوا اور ڈلیوری تک وہاں مسلسل میری موجودگی قائم رہی۔ پھر اس کے پہلے سفر میں بھی میں ہی اس پر چیف انجینئر رہا تھا۔ کسی بھی جہاز کے پہلے سفر کو تاریخی اہمیت دی جاتی ہے اور اسے Maiden voyageکہا جاتا ہے۔

جس طرح نومولود بچہ کچھ عرصے تک اپنی ماں کو بے آرام اور شب بیداری پر مجبور کرتا ہے۔ اسی طرح ہرنیا جہاز بھی اپنے پہلے سفر میں انجینئرز کو رلا کر رکھ دیتا ہے، کیونکہ جہاز خواہ جاپان میں تیار ہو یا جرمنی میں، کوشش کے باوجود اس میں کچھ خامیاں اور نقص رہ جاتے ہیں۔ صحیح معنوں میں ان خامیوں اور نقائص کی خبر سمندر پر ہی ہوتی ہے۔ ان کو سنبھالنا اور درست کرنا جہازی انجینئرز ہی کا کام ہوتا ہے۔ بہر حال سمندری ہچکولوں، طوفانی بارشوں اور مشینی مصائب کے باجود مجموعی طور پر ہم سب جہازی تمام سفر کے دوران خوش اور مطمئن رہے۔ راستے میں ہم نے جاپانی بندرگاہوں، اوساکا، کوبے اور نگویا سے کراچی کے لیے کارگو اٹھایا۔ اس کے بعد دیگر سامان جنوبی کوریا کی بندرگاہ پوسان، ہانگ کانگ، سنگاپور اور کولمبو سے اٹھایا۔ ہمارا جہاز کسی بھی بندرگاہ پر پہنچتا تو وہاں کے لوگ جہاز کی بیرونی چمک دمک اور اندرونی ڈیکوریشن کی خوب تعریف کرتے۔ ہر بندرگاہ پر ہمارے مقامی آفس کے افسران اور ہمارے سفارت خانے سے تعلق رکھنے والے افراد جہاز کی شان میں دعوت کا اہتمام کرتے رہے۔
میں نے اس جہا ز پر چیف انجینئر کی حیثیت سے مزید تین چار طویل سفر کیے۔ ہم اس جہاز کو سوئز کینال سے گزارکر کیپ آف گڈ ہوپ سے یورپ اور افریقا کی مختلف بندرگاہوں تک لے جاتے رہے۔
آج میں ان دنوں کے بارے میں سوچتا ہوں تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے یہ کل ہی کی بات ہو۔ اس وقت میں35 برس کا جوان تھا اور آج زیست کی 66 بہاریں دیکھنے کے بعد میں اس جہاز اور اس پر گزارے ہوئے ایام کے بارے میں انتہائی ناستلجیا محسوس کرتا ہوں۔ مجھے رہ رہ کر وہ دن یاد آتے ہیں جب میری موجودگی میں ٹوکیو کی شپ یارڈ میں جاپانی مزدوروں نے آہنی ٹکڑے جوڑ کر یہ جہاز تیار کیا تھا۔ جس کا نام ہم نے مالاکنڈ رکھا تھا اور اب چند دنوں کے بعد ہمارے پاکستانی مزدور اس جہاز کو توڑ کر ٹکڑوں میں تبدیل کردیں گے۔
عہد پیری شباب کی باتیں
ایسی ہیں جیسے خواب کی باتیں
آج ماضی کو یاد کرتا ہوں تو دل میں ہلچل سی مچ جاتی ہے۔ کاش گزرا وقت پھر لوٹ آئے! کوئی حاتم طائی مل جائے اور وہ ”ایک بار دیکھا ہے دوبارہ دیکھنے کی تمنا ہے“ کا سوال پورا کردے!
دوڑ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو۔۔۔ لیکن یہ ناممکن ہے۔
ملائیشیا میں جب کوئی سفر پر روانہ ہوتا ہے تو اسے رخصت کرنے والے اکثر یہ مشہور ملئی شعر گنگناتے ہیں:
Kalau ada umur yang panjang
Boleh kita berjumpa lagi
(اگر اللہ نے لمبی زندگی دی تو ایک دن دوبارہ تم سے ضرور ملیں گے)
لیکن اپنے وقت کا خوب صورت جہاز مالاکنڈ اب ایسے سفر پر روانہ ہونے والا تھا، جس کے بارے میں سوچ کر میں صرف یہی کہہ سکتا ہوں:
”بائے بائے مالاکنڈ! اب آئندہ تم سے ملنا محال ہے۔”
اور وہ جاپانی جنہوں نے اس جہاز کو تیار کیا، وہ بھی یہی الفاظ دہراسکتے ہیں:
Sayōnara marakando. Nidoto aenai.
さようならマラカンド。二度と会えない。
