
کراچی سوشل فورم کی جانب سے اقبال چنہ کے خلاف احتجاج کیا گیا۔
کراچی:کراچی سوشل فورم کے رہنمائوں ستار راجپر، اشفاق عباسی، محمود جمالی، ذوالفقار کھوسو اور چاکر عباسی نے کراچی پریس کلب میں پلاٹوں پر جبری قبضے کے خلاف پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اقبال چنا نامی شخص جو کہ پرائمری اسکول ٹیچر تھا، اس کا کوئی سیاسی، سماجی اور تعلیمی پس منظر نہیں تھا، مجھے نہیں معلوم کہ اس شخص کے خلاف اخلاق، کردار، اصولوں اور انصاف کے بغیر کیا کارروائی کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اقبال چنہ کو ایک ایڈمنسٹریٹر مقرر کر دیا گیا اور چارج سنبھالتے ہی پرانی الاٹمنٹ کی فائلیں منسوخ کر دیں اور غریب مزدوروں اور 25 سال سے چھت آسرے بیٹی ماؤں بہنوں کی امیدوں پر پانی پھردیا گیا۔ ان سب کو لوٹ لیا گیا اور غریبوں کے پلاٹ کینسل کر کے دوبارہ غیر قانونی طور پر فروخت کر دیئے گئے اور نہ ہی اپنی مرضی سے پلاٹ پر کوئی تعمیراتی کام کر سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اسکیم 33 کے متاثرین نے اقبال چنا کے ایسے ظلم کے خلاف شدید احتجاج کیا، سندھ ہائی کورٹ میں مقدمات درج ہوئے، نیب کو متحرک کیا گیا، اخبارات میں جعلی اشتہارات شائع کیے گئے، لیکن یہ شخص قانون کی گرفت سے آزاد رہا
انہوں نے کہا کہ ہم نے اقبال چنہ سے 4 پلاٹ خریدے جس کی تمام دستاویزات موجود ہیں لیکن پھر بھی دوسروں کی طرح وہ ہمارے پلاٹ دوسرے لوگوں کو فروخت کر دیے ہیں اور سوسائٹی میں داخلے پر پابندی لگا دی ہے اور ہمارے پلاٹ پر جانے کی صورت میں جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی مل رہی ہیں،
ستار راجپر، اشفاق عباسی، محمود جمالی، ذوالفقار کھوسو و دیگر نے کہا کہ ہم واضح کرتے ہیں کہ ہم اپنے حقوق سے کبھی دستبردار نہیں ہوں گے اور جھوٹے مقدمات یا دھمکیوں پر خاموش نہیں بیٹھیں گے اور ہم قانون کا سہارا لیں گے اور ہم پرامن جدوجہد کا راستہ بھی چنیں گے تاکہ اس کا منہ چڑا جائے۔ نفرت انگیز شخص کو دنیا کے سامنے بے نقاب کیا جائے گا، ہمیں امید ہے کہ میڈیا کے ادارے اس ناانصافی کی نشاندہی کریں گے اور ہم آخری دم تک اپنے حقوق کے لیے لڑیں گے، بصورت دیگر کسی بھی نقصان کی ذمہ داری مذکورہ شخص اور اس کی سہولیات پر ہوگی۔
