
کراچی:وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ آئین میں واضح ہے کہ این ایف سی ایوارڈ میں کٹوتی نہیں کی جاسکتی البتہ اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ امن و امان کے حوالے سے ہمیں جہاں بہتر لگے گا ہم وہاں تبادلے ضرور کریں گے اور جن بہترین افسران کو تعینات کیا جائے گا اُن سے نتائج بھی لیے جائیں گے۔ یہ بات انہوں نے آج الیکشن کمیشن آف پاکستان، سندھ کے احاطے میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہی ۔
سید مراد علی شاہ نے کہا کہ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم پاکستان پیپلزپارٹی کے امیدوار کو کامیاب کرائیں، ہم نے جنرل نشستوں پر 9 کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں، سینٹ کے انتخابات خفیہ رائے شماری کے ذریعے کرائی جاتی ہیں تاکہ ہر ووٹر اپنی مرضی سے ووٹ دےجبکہ وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کا انتخاب اوپن ہوتے ہیں تاکہ کوئی ارکان پارٹی قوانین کی خلاف ورزی نہ کرے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ یہ منطق سمجھ میں نہیں آتی کہ ووٹ کم ملے یا زیادہ ملے ۔ انہوں نے کہا اسکروٹنی کے بعد امیدواروں کی حتمی لسٹ جاری کی جائے گی،کوشش کریں گے کہ زیادہ سے زیادہ نشستیں حاصل کریں ۔انہوں نے کہا کہ میری خواہش ہے کہ ہم 12 کی 12 نشستیں جیت جائیں۔
این ایف سی ایوارڈ کے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وفاق سے کہہ چکا ہوں کہ نیا این ایف سی ایوارڈ متعارف کرایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ این ایف سی ایوارڈ 2010 کے مطابق دی جارہی ہے جبکہ 18ویں آئینی ترمیم کے بعد اس میں تبدیلی آنی چاہیے کیونکہ اس آئینی ترمیم کے بعد صوبوں کو زیادہ خودمختار اور ذمہ دار بنایاگیا ہے، ہم نے 9 جنرل نشستوں پر امیدوار کھڑے کیے ہیں، جن میں تین خواتین، 3 ٹیکنوکریٹ ایک وکیل اور 2 اقلیتوں پر مشتمل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ارسا کا مسئلہ قومی اسمبلی کا ہے ۔ پی ٹی آئی کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہوسکتا ہے کہ پی ٹی آئی کے پاس اب کوئی سیاستدان بچا ہی نہیں یا اُن کے پاس سیاستدانوں کی کمی ہے بہر حال وکالت، ڈاکٹر یا انجینئرنگ کا مقابلہ نہیں، وہ سینٹ کے انتخابات میں جسے لانا چاہتے ہیں، لاسکتے ہیں مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ ان کی پوری جماعت صرف ایک شخص کو ہی مقدس سمجھتی ہے نہ کہ عوام کو۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ کے طریقے کار کو اب تبدیل ہونا چاہیے کیونکہ یہ طریقہ 18 ویں آئینی ترمیم سے پہلے کا ہے اور جب تک ایوارڈ کے طریقے کار میں تبدیلی نہیں ہوتی ،پرانے طریقے پر ہی عمل ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ وفاق کا اپنا ایک نقطہ نظر ہے ،ہوسکتاہے کہ وفاق کے پاس وسائل کی کمی ہو لیکن ہم ایوارڈ کے طریقے کار میں تبدیلی کے لیے این ایف سی فورم میں ضرور آواز بلند کریں گے۔
