
اسلام آباد: دوسری جانب چوہدری شجاعت کی رہائش گاہ پر مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے کو چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا کہ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہم مل کر حکومت بنائیں گے اور پاکستان کو مشکلات سے نکالیں گے، چاہے وہ معاشی ہو، دہشت گردی ہو یا مفاہمت یا کوئی اور، لیکن تحریک انصاف بھی ہمارے ساتھ ہو گی، ہم سب مل کر کام کریں گے۔ پاکستان کو کامیاب بنائیں اور غریبوں کا احساس کریں، ہمیں معلوم ہے کہ ملک پر کتنا قرضہ چڑھ چکا ہے اور کتنی قسطیں ادا کرنی ہیں۔ہم نے ایک دوسرے کے خلاف الیکشن لڑے ہیں اور ہم ملک کو کنٹرول کر سکتے ہیں،اس دعا کے ساتھ کہ ملک ترقی کرے۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے کہا کہ بے حد مشکور ہوں جنہوں نے ہم سب کو اکٹھا کیا، ہم سب اکٹھے ہوئے ہیں تاکہ قوم کو بتا سکیں کہ الیکشن میں ہم نے ایک دوسرے کے خلاف جو باتیں کیں وہ مرحلہ ختم ہو گیا، اب ملکی چیلنجز کے خلاف ہماری جنگ ہے۔ اس کے خلاف ہمیں ملکی معیشت کو دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا کرنا ہے، وہی قومیں آگے بڑھ سکتی ہیں جو کہتی ہیں کہ اختلافات ختم کرکے ملکی چیلنجز کا مقابلہ کریں گے، آئی ایم ایف معاہدے سے پاکستان میں استحکام آیا، اب ہم مہنگائی سے لڑیں گے، اب ہم قوم کو بتائیں گے کہ جو مینڈیٹ آیا ہے ہم اسے قبول کرتے ہیں، ہم آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کے شکر گزار ہیں جنہوں نے ہمیں ووٹ دینے کا فیصلہ کیا۔ پی ٹی آئی کے سپورٹرز کامیاب ہونے والے امیدواروں کا دعویٰ ہے کہ ہمارے پاس اکثریت ہے، اگر وہ ثابت کر دیں تو ہم ان کا ساتھ دیں گے اگر نہیں تو ہم سب مل کر پاکستان کی ترقی کے لیے خون کے آخری قطرے تک حکومت بنائیں گے۔ پچھلی حکومت میں ہم سب نے مل کر کام کیا اور ملک کو بحرانوں سے نکالا۔میں ان تمام جماعتوں کا شکر گزار ہوں جنہوں نے وزارت عظمیٰ کے عہدے کے لیے ہمارا ساتھ دیا۔کمیٹیاں بنا دی گئی ہیں اور وہ مزید فیصلے کریں گی۔وزیراعظم کا عہدہ قبول کر رہے ہیں۔ وزیر، مریم نواز پارٹی کی مشاورت سے پنجاب کی وزارت اعلیٰ کی امیدوار ہیں۔
پاکستان مسلم لیگ (ق) کے قائد چودھری شجاعت نے کہا کہ جیسا کہ جناب زرداری نے کہا کہ ہم جمہوریت کو آگے لے کر جا رہے ہیں اور کوشش کر رہے ہیں، معاشی ایجنڈا نمبر ون ہونا چاہیے۔ علیم خان نے کہا چودھری شجاعت کا شکریہ جنہوں نے ہم سب کو اکٹھا کیا، ہم سب کو مل کر کام کرنا چاہیے، غریبوں کی حالت بہت خراب ہے، ہمیں الیکشن کے بعد پتہ چلے گا کہ حالات کیا ہیں، ہمیں ایسے فیصلے کرنے ہیں جن سے ملک کی بہتری ہو۔ ترقی کریے۔ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ پاکستان جس طرح بحرانوں سے گزر رہا ہے اس وقت ہمارے لیے پاکستان سے بڑھ کر کوئی اور ترجیح نہیں، ہم نے پہلے بھی شہباز شریف کو سپورٹ کیا تھا اور کرتے رہیں گے، آگے بھی لے جا سکتے ہیں۔
