
کب تک ماضی کی غلطیاں دہرائیں گے؟ مجھ پر تنقید کریں گے تو مجھے میری غلطی معلوم ہو گی
صحافیوں کی ہراسگی سے متعلق ازخود نوٹس کی سماعت چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں ہوئی۔
چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا کتنے کیسز ہیں؟
اٹارنی جنرل نے بتایا کہ یہ چار درخواستیں ہیں جن میں قیوم صدیقی اور اسد طور درخواست گزار ہیں۔
چیف جسٹس پاکستان نے کہا قیوم صدیقی بتائیں کیس خود چلانا ہے یا صدر پریس ایسوسی ایشن دلائل دیں گے؟
عبدالقیوم صدیقی نے کہا میں کچھ حقائق سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔
قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے قدرت کا نظام دیکھیں کہ ہم نے ازخود نوٹس کورٹ نمبر دو میں لیا لیکن معاملہ 5 رکنی بینچ کے پاس ازخود نوٹس کے اختیار کے لیےچلا گیا
چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس جاری رکھتے ہوئے کہا 5 رکنی بینچ نے طے کیا 184 تین کا ازخود نوٹس لینےکا اختیار صرف چیف جسٹس کا ہے، صحافیوں کی ہی نہیں ججز کی بھی آزادی اظہار رائے ہوتی ہے۔
جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا صحافیوں کی شکایت کو دیکھا ہی نہیں گیا تھا، سپریم کورٹ نے کیس نمٹانے کے بجائے 2021 سے سرد خانے میں رکھ دیا۔کب تک ماضی کی غلطیاں دہرائیں گے؟ مجھ پر تنقید کریں گے تو مجھے میری غلطی معلوم ہو گی۔
