
کراچی: دعا خاصخیلی نے کہا ہے کہ شادی سے انکار بيدری سے قتل ہوئے بہن تانيا کا کيس مسلسل عدالتوں ميں چلا۔
انہوں نے کہا کہ انسداد دہشگردی عدالت سے لے کر جامشورو کورٹ پھر سہون کی عدالت ميں گئے، گہر تباھ ہوگيا ماں اس دنيا سے چلی گئی، قاتلوں کی دمکيوں کے باوجود ہم کيس لڑی۔
ان کا کہنا تھا کہ 6 سال بعد عدالت میں مرکزی ملزم خانو نوحانی مجرم ثابت ہوئے اور پھر عدالت نے انہیں عمر قید کی سزا سنادی، مجرم کے ایک ساتھی جو کہ پہلے سے ہی فرار تھا اسے روپوش قرار دیا گیا اور ایک سہولتکار کو بری کیا گیا۔
دعا خاصخیلی کا کہنا تھا کہ ميں چاہتی ہوں کے ميری بہن سے لے کر جو بھی مظوم بيٹياں قتل ہوئی ہیں ان سب کو مکمل انصاف ملے۔
