PTIانتخابی نشان بلا سے محروم،سپریم کورٹ نے محفوظ فصلہ سنادیا

PTIانتخابی نشان بلا سے محروم،سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنادیا

سپریم کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے انٹرا پارٹی انتخابات اور بلےکے انتخابی نشان کےکیس کا محفوظ فیصلہ ججز نے سنادیا

چیف جسٹس نے محفوظ فیصلہ پڑھ کر سنایا، سپریم کورٹ نے پشاور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا

کیس کی سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نےکی، جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی بینچ میں شامل تھیں، فیصلہ متفقہ طور پر سنایا گیا۔

سپریم کورٹ کے مطابق ثابت نہیں ہوتا پی ٹی آئی نے انٹراپارٹی انتخابات کرائے

سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا کہ الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کو انٹراپارٹی انتخابات کرانےکا نوٹس 2021  میں کیا تھا۔

الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کو جون 2022  تک انتخابات کرانےکا وقت دیا، 20 دن میں انتخابات کرانے کا کہا، بصورت دیگر انتخابی نشان لینےکا بتایا گیا

پی ٹی آئی کی درخواست پر لاہور ہائی کورٹ 5 رکنی بینچ بنا جو زیر التوا ہے، پی ٹی آئی نے دوبارہ انتخابات کرا کر بھی لاہور ہائی کورٹ میں اپنی درخواست واپس نہیں لی۔

دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے رہنما بئریسٹر گوہر کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے تمام امیدوار آزاد حیثیت سے الیکشن میں حصہ لینگے۔

بیریسٹر گوہر نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عدالت نے جو فیصلہ دیا ہمیں وہ قبول ہے،پاکستان تحریک انصاف عدالتی فیصلے پر نظرثانی اپیل دائر کی جائے گی۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں