پرویز مشرف کی سزا بحال ہونا آئین بالا دستی کیلئے جدوجہد کرنے والوں کی تاریخی کامیابی ہے،لیاقت علی ساہی

کراچی: سیاسی و سماجی رہنما لیاقت علی ساہی نے پرویز مشرف کی آئین شکنی پر سپریم کورٹ  کے ایک فیصلے میں سزا بحال ہونے پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ پرویز مشرف  چیف آف آرمی کے عہدے کو ذاتی مفادات کیلئے استعمال کرتے ہوئے ملک کے آئین کو توڑا تھا جس کی بنیاد پر وفاقی حکومت نے آئین شکنی کا مقدمہ رجسٹرڈ کیا تھا جس کی بنیاد پر انہیں سزا ہوئی تھی جسے ہائی کورٹ نے معطل کردیا تھا جو کہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت تھا جس پر عدالت نے سزا کو بحال کرکے آئین کی بالادستی کی رٹ کو نہ صرف قائم کیا ہے بلکہ  جمہوری اور عوام کے ووٹوں سے قائم ہونے والی حکومت کو طاقت کے بل بوتے پر ختم کئے جانے کے راستے کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے بند کردیا ہے، پرویز مشرف نےملک کے آئین کو معطل کرکے پی سی او نافذ کرکے ملک پر قبضہ  کرلیا تھا جو کہ ملک کے آئین کے آرٹیکل 6 کی خلاف ورزی تھی ۔ تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی آئین شکن کو سزا دی گئی ہے جسے تاریخ ساز فیصلہ تصور کیا جائے گا ۔

انہوں نے کہا کہ پرویز مشرف نے آرڈیننسوں کے ذریعے ریاستی اداروں کو تباہ اور برباد کرکے رکھ دیا تھا جس میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو بھی ایک آرڈیننس کے ذریعے تقسیم کرکے چوبیس کروڑ عوام کے ساتھ دھوکہ کیا گیا تھا جسے بعد میں سترویں ترمیم میں پارلیمنٹ نے بہت سے غیر آئینی آرڈیننس کو آئین کا حصہ بناکر ملک کے ساتھ ناانصافی کی گئی تھی ، بنیادی طور پر اُس وقت کی پارلیمنٹ بھی پرویز مشرف    کے پی سی او کے  تحت منتخب ہوئی تھی اس غیر آئینی اقدام کے خلاف ہم نے  این آئی آر سی سے لے کر ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ تک انصاف کے حصول کیلئے  گئےتھے لیکن اعلی عدالتوں نے ہمیں انصاف نہیں دیا بد قسمتی کے ساتھ اٹھارویں ترمیم میں بھی پرویز مشرف کے بہت سے غیر آئینی اقدام کو رپیل توکیا گیا لیکن سیاسی پارٹیوں جو جمہوریت اور آئین کی بالادستی  پر یقین رکھتی ہیں انہوں نے بھی اسٹیٹ بینک کے آرڈیننس کو ختم نہیں کیاتھا جو کہ جبکہ ہمارے جیسے ورکرز کی وکلاء تحریک میں آئین کی بالادستی کی بحالی کی خاطر بغاوت کے مقدموں اور جیلوں کی صوبتیں برداش کرچکے  ہیں وہ امید کرتے تھے کہ اسٹیٹ  بینک آف پاکستان کی غیر آئینی تقسیم کو ختم کریں گے لیکن اس آرڈیننس کو قائم رکھا گیا جوکہ آئین کی بالادستی کی نفی کے مترادف  تھا ۔

لیاقت ساہی نے کہا کہ بد قسمتی سے اداروں میں گزشتہ تہتر سالوں سے محنت کشوں کے بنیادی حقوق کو طاقت کے بل بوتے پر سلب کرکے اداروں کی انتظامیہ بھی آئین شکنی کی مرتکب ہورہی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اسٹینڈنگ آرڈر ایمپلائمنٹ 1968 میں کسی بھی ادارے کو اجازت نہیں ہے کہ وہ مستقل پوسٹوں پر کنٹریکٹ اور تھرڈ پارٹی کنٹریکٹر کے ذریعے بھرتیاں کریں گے لیکن اس پر پارلیمنٹ نے کوئی کردار ادا نہیں کیا جس کی وجہ سے ملک بھر کے پرائیویٹ اور پبلک سیکٹر کے اداروں میں آئین شکنی کی جارہی اس پر ملک بھر کی مزدور تنظیموں کو متحد ہوکر سپریم کورٹ آف پاکستان میں مفاد عامہ کی پٹیشن داخل کرکے آئین شکنی کو بے نقاب کیا جائے اور ورکرز کے آئینی حقوق کو یقینی بنایا جائے۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں