پشاور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کا بلے کا انتخابی نشان بحال کردیا

پشاور ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) کا بلے کا انتخابی نشان بحال کردیا

جسٹس اعجاز انور اور جسٹس سید ارشدعلی نے پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی الیکشن کے خلاف دائر درخواستوں پر سماعت کی۔

جسٹس سید ارشد علی نے استفسار کیا  کہ الیکشن کمیشن نے کون سے سیکشن کے تحت اس پارٹی کے خلاف کارروائی کی؟

درخواستگذار کے وکیل نے جواب میں کہا الیکشن ایکٹ سیکشن 215 کے تحت کارروائی کی گئی ہے، الیکشن کمیشن نے دیکھنا تھا کہ سیکشن 208 کے تحت انٹرا پارٹی انتخابات ہوئے، سب نے کہا کہ جو بانی پی ٹی آئی کہیں گے وہی ہوگا۔

جسٹس اعجاز انور نے ریمارکس دیے یہاں تو سب جماعتیں ایک ہی خاندان کے لوگ چلاتے آرہے ہیں، شاید یہ واحد جماعت ہے جو ورکرز کو آگے آنے دے رہی ہے۔

وکیل بیرسٹر علی ظفرنے شکایت کندہ کے وکلاء کے اعتراضات پر جواب دیتے ہوئے کہا آرٹیکل 199 ہائیکورٹ کو سماعت کا اختیار دیتا ہے۔

پشاور ہائی کورٹ نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے تحریک انصاف کا انتخابی نشان بلا بحال کر دیا۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں