
اسلام آبا: سپریم کورٹ میں سابق جج شوکت عزیز صدیقی کیس کی سماعت چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں قائم 5 رکنی لارجر بینچ کر رہا ہے.
شوکت عزیز صدیقی کے وکیل حامد خان عدالت میں پیش ہوئے۔
چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ شوکت عزیز صدیقی کے الزامات کیا درست ہیں؟۔ شوکت عزیز صدیقی کو ان الزامات پر مبنی کی گئی تقریر پر برطرف کیا گیا، اگر شوکت عزیز صدیقی کے الزامات درست ہیں تو وہ جنرلز کسی کے سہولت کار بننا چاہ رہے تھے
وکیل حامد خان نے کہا کہ میرے لگائے گئے الزامات درست ہیں۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے آپ ہمارے سامنے آرٹیکل 184 تین کے تحت آئے ہیں۔ یہ بھی یاد رکھیں کہ اصل دائرہ اختیار کے تحت کیا ہو سکتا ہے، آپ کا کہنا ہے کہ عدالتوں پر دباؤ ڈال کر کسی کو نااہل رکھ کر کسی دوسرے کو فائدہ پہنچانا مقصد تھا؟ایک امیدوار کو سائیڈ پر اسی لیے کیا جاتا ہے کہ من پسند امیدوار جیتے۔
وکیل حامد خان نے کہا کہ 70 سال سے ملک میں یہی ہو رہا ہے
جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ کیا 70 سال سے جو ہورہا ہے اس کا ازالہ نہ کریں؟۔
وکیل بار کونسل صلاح الدین نے عدالت میں کہا کہ سابق جج نے اپنے تحریری جواب میں جن لوگوں کا نام لیا، ہم ان کو فریق بنا رہے ہیں۔شوکت عزیز صدیقی نے بانی پی ٹی آئی سمیت کسی اور کو فائدہ دینے کی بات نہیں کی۔ مفروضے پر ہم کسی کو فائدہ پہنچانے کے لیے کسی کا نام نہیں لے سکتے
چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ شوکت عزیز صدیقی کے الزامات بھی مفروضے ہیں۔
عدالت نے شوکت عزیز صدیقی برطرفی کیس میں سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل (ر) فیض حمید و دیگر کو نوٹس جاری کردیے۔
