مشہوراداکارہ ستارہ زیدی نے بطور ڈرامہ پروڈیوسر بازی جیت لی

کراچی (رپورٹ: وسیم خان) اپنے وقت کی مشہوراداکارہ ستارہ زیدی نے بطور ڈرامہ پروڈیوسر میدان مار لیا اور بازی جیت لی اسٹیج ڈرامہ "ڈونٹ فکر ابا” کی کامیابی سے فیملی ڈراموں کا دور پھر سے واپس آگیا اور اس ڈرامے کے زریعے سے فیملی کی واپسی ہوئی ہے ڈرامہ کی کہانی میں اصلاح کا پہلو نمایاں رہا

 آرٹس کونسل کی ڈرامہ کیمٹی کی جانب سے ڈرامہ وقت پر شروع کرنا اور وقت پر اختتام کرنے کی پالیسی بھی کامیاب رہی ہے اگر تمام ڈرامہ پروڈیوسرز اس پالیسی پر عمل کرینگے تو یقیناً ڈرامے دیکھنے کیلئے فیملز زیادہ سے زیادہ تعداد میں آنا شروع کر دیںنگی پروڈیوسر ستارہ زیدی نے اس ڈرامے میں ایک اور اچھی روایت قائم کی ڈرامہ شروع ہونے سے ایک روز قبل ہی تمام تر فنکاروں کی پیمنٹ ادا کردی تھی ورنہ عام طور پر ڈرامہ ختم ہونے کے بعد فنکار پروڈیوسرز کو تلاش کرتے نظر آتے ہیں

متعدد بار تو ایسا بھی ہوا کہ پروڈیوسرز ڈرامہ ختم ہونے سے پہلے ہی غائب ہوجاتے تھے ڈرامہ "ڈونٹ فکر ابا” کے ہدایت کار یونس میمن تھے جو کہ ہمیشہ اچھے اسکرپٹ کی تلاش میں رہتے ہیں اورکچھ نیا کرنے کی جستجو میں سرکرداں نظر آتے ہیں اور زیادہ تر فیملی ڈرامے بنانے پر ترجیح دیتے ہیں انھیں ستارہ زیدی کی صورت میں ایک اچھا پروڈیوسر ملا اور عامر ہوکلا جیسا اچھا رائٹر بھی جبکہ معروف اداکار ذوالقرنین حیدر اور شبانہ رضا کی اس ڈرامے کے زریعے کراچی اسٹیج پر واپسی ہوئی

 موجودہ دور کی نمبرون اداکارہ شانزے نے اس ڈرامے میں ستر سالہ دادی کے کردار میں بہترین پرفارمنس کا مظاہرہ کیا حقیقت سے قریب تر اداکاری  کی بدولت شانزے اب تک  نمبر ون پوزیشن پر برقرار ہے اور مزید یہ نمبر پوزیشن کئی سال تک برقرار رہے سکتی ہے کیونکہ فی الحال شانزے کے مد مقابل دور دور تک کوئی اداکارہ نظر نہیں آتی ہے ذوالقرنین حیدر اپنے کردار میں بے حد کامیاب رہے جب کہ شبانہ رضا کے رقص کو بے حد پسند کیا گیا

ناصرہ نور کی پرفارمنس لاجواب رہی ذوالقرنین حیدر کے ساتھ گانے میں اچھا پرفارم بھی کیا ولی شیخ اور ستارہ زیدی صرف ایک انٹری تک محدود رہے شکیل شاہ، پرویز صدیقی اپنی موجودگی کا احساس دلانے میں  کامیاب رہے ہنی خان نے نوکر کے کردار میں بے حد متاثر کن پرفارمنس کا مظاہرہ کیا ہنی خان بطور اسسٹنٹ ڈائریکٹر تو اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں تاہم انھیں اداکاری کی طرف بھی دھیان دینے کی ضرورت ہے کیونکہ وہ ایک باصلاحیت اداکار بھی ہیں دیگر پروڈیوسرز اور ڈائریکٹرز کو ہنی خان کی صلاحیتوں سے استفادہ حاصل کرنا چاہئے انھیں صرف اسسٹنٹ ڈائریکٹر کی حد تک محدود نہ رکھیں۔

سپنا عزل، سعدیہ خان، شہباز صنم، عبداللّه لالا،ارما احمد، طلحہ بھوجانی مناسب رہے کچھ فنکار بھرتی کے کرداروں میں نظر آئے مجموعی طور ڈرامہ اچھا رہا پیشکار ذاکر حسین تھے میوزک ڈائریکٹر مجتبیٰ نقوی اور اسرار پنچھی تھے معاونت کے فرآئض صادق خان اور ہنی خان نے انجام دیے۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں