صدر مملکت نے عام انتخابات کی تاریخ پر دستخط کردیے

اسلام آباد: سپریم کورٹ میں چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں جسٹس امین الدین اور جسٹس اطہر من اللہ پر مشتمل تین رکنی بینچ 90 دن میں عام انتخابات کرانے کیلئے دائر درخواستوں پر سماعت کی

اٹارنی جنرل نے صدر سے الیکشن کمیشن حکام کی ملاقات کے منٹس پیش کیے جس پر چیف جسٹس نے میٹنگ منٹس پڑھ کے سنانے کا حکم دیا

اٹارنی جنرل نے میٹنگ منٹس پڑھتے ہوئے بتایا کہ صدرمملکت سے چیف الیکشن کمشنر سمیت الیکشن کمیشن کے دیگر ممبران ملے، چیف الیکشن کمشنر اور چاروں ممبران کی منظوری سے میٹنگ منٹس منظور ہوئے۔

چیف جسٹس نے سوال کیا کہ صدرمملکت کے دستخط کہاں ہیں؟ اس پر اٹارنی جنرل نے بتایا کہ صدر مملکت کی جانب سے پریس ریلیز جاری کی گئی تھی

چیف جسٹس نے کہا کہ صدرکے دستخط کرواکر لائیں تو پیغام بھیج دیجیے گا،عدالت کے سامنے ایوان صدر سے کچھ بھی نہیں ہے، الیکشن کمیشن اور حکومت کی جانب سے تو آپ نے بتادیا، ہم کوئی گرے ایریا نہیں چھوڑنا چاہتے،کل کوئی فریق آکریہ نہ کہہ دے کہ مشاورتی عمل میں میں شامل نہیں تھا

عدالت نے سماعت میں وقفہ کردیا اور وقفے بعد جب اٹارنی جنرل عدالت پہنچے تو انہوں نے بینچ سے ملاقات کی۔

اٹارنی جنرل جب کمرہ عدالت پہنچے تو چیف جسٹس نے کہا کہ بہت دیر ہو گئی اٹارنی جنرل صاحب،

اٹارنی جنرل نے صدرکی طرف سے انتخابات کی تاریخ کی دستخط شدہ کاپی عدالت میں پیش کردی۔

https:/latest-news/6901/

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں