جامعہ کراچی میں عالمی یوم قلب کی مناسبت سے سیمینار

دل کے امراض پر قابو اور اس کے سدباب کے لئے آگاہی ناگزیر ہے،جامعات آگاہی فراہم کرنے کے لئے ایک بہترین ذریعہ ہیں۔ڈاکٹرخالد عراقی

نیشنل میڈیکل سینٹر یونائیٹڈ اسپتال کراچی کے کنسلٹنٹ کارڈیالوجسٹ ڈاکٹر ریحان عمرنے کہا کہ دنیا بھر میں شرح اموات کی پہلی سب سے بڑی وجہ امراض قلب ہے۔2019 تا2022 ء اموات کی کل شرح 3 ملین تھیں اور ان تین ملین اموات کی وجہ سے پوری دنیا ایک دوسرے سے الگ ہوگئی تھی جبکہ امراض قلب سے ایک سا ل میں 20.6 ملین اموات ہوتی ہیں۔اس وقت پوری دنیا میں 535 ملین افراد امراض قلب کا شکارہیں اور اگر اس مرض پر بروقت اقدامات کے ذریعے قابونہ پایاگیا تو 2030 ء تک اموات کی تعداد23 ملین تک پہنچ جائے گی۔پاکستان میں ہر02 منٹ میں دل کے امراض سے ایک شخص کی موت ہورہی ہے،روزانہ 800 افراد،ماہانہ 22000 افراد جبکہ سالانہ 292800 افراد امراض قلب کی وجہ سے موت کا شکارہورہے ہیں۔دل کے امراض میں مبتلا 75 فیصدافراد کا تعلق غریب اور ترقی پذیر ممالک سے ہے۔ان خیالا ت کا اظہارانہوں نے جامعہ کراچی کے میڈیکل سینٹر کے زیر اہتمام عالمی یوم قلب کی مناسبت سے کلیہ علم الادویہ جامعہ کراچی کی سماعت گاہ میں منعقدہ سیمیناربعنوان: ”صحت مندقلب صحت مندقوم“ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

ڈاکٹر ریحان عمر نے مزید کہا کہ ایک اندازے کے مطابق 2045 ء تک 783 ملین افراد زیابیطس کا شکارہوجائیں گے۔ڈاکٹر ریحان نے 2018 ء میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 1.13 بلین افراد سماجی واقتصادی مسائل کی وجہ سے ہائپرٹینشن میں مبتلاپائے گئے۔تمباکونوشی کا استعمال ہائی بلڈپریشر،ہائی کولیسٹرول،شوگر،موٹاپے اور دل کے امراض کی بنیادی وجوہات ہوسکتے ہیں۔ہمیں اس حوالے سے آگاہی کو فروغ دینے کی ضرورت ہے اور دل کا دورہ پڑنے کا انتظارکرنے کے بجائے اس کی بروقت تشخیص اور علاج کے لئے اقدامات کویقینی بناناچاہیئے۔

 نیشنل میڈیکل سینٹر کے کنسلٹنٹ کارڈیالوجسٹ پروفیسرڈاکٹرمنصوراحمدنے کہا کہ ہمارے خطے میں موٹاپے کے ساتھ ساتھ بچوں کی توندنکلنا شروع ہوگئی ہے جس سے چھوٹی عمر کے بچے اورنوجوان بھی ذیابیطس اور امراض قلب کا شکارہورہے ہیں اور اس کی ایک بڑی وجہ جنک فوڈ کا استعمال ہے۔ ڈاکٹرمنصوراحمد نے کہا کہ جنک فوڈ کا خاتمہ ممکن نہیں کیونکہ صحت سے زیادہ پیسہ اس کی مارکیٹنگ پر لگتاہے۔ہمارے یہاں جس تیزی سے تمباکونوشی کا استعمال بڑھ رہاہے اس کو روکنے کی ضرورت ہے اور ذیابیطس،موٹاپے اوردیگر امراض سے بچنے کے لئے ضروری ہے کاربوہائیڈریٹس والی غذاؤں کا کم سے کم استعمال کیاجائے اور بالخصوص چینی جس کا پاکستان میں بہت زیادہ استعمال ہوتاہے اور چینی ایک سفید زہر کی مانند ہے۔

اس موقع پر جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسرڈاکٹر خالد محمودعراقی نے کہا کہ پاکستان میں کل شرح اموات میں سے 16 تا18 فیصداموات کا سبب دل کے امراض ہیں جبکہ پاکستان کی 40 فیصدآبادی دل کے امراض کا شکارہیں جس کی ایک بڑی وجہ آگاہی کا فقدان اور لاپرواہی ہے۔ہمارے یہاں عام طورپر دل کا دورہ پڑنے کے بعد ڈاکٹرزسے رجوع کیاجاتاہے جو افسوسناک امرہے۔بروقت تشخیص اس دل سے جڑے امراض سے بچاجاسکتاہے جس کے لئے آگاہی کا فروغ ناگزیر ہے اور جامعات آگاہی کا بہترین ذریعہ ہیں کیونکہ اس میں ملک کے طول وغرض سے طلبہ حصول علم کے لئے آتے ہیں۔

کراچی یونیورسٹی کے کنسلٹنٹ کارڈیالوجسٹ ڈاکٹر اکمل وحید نے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ آج کے سیمینار کا مقصد امراض قلب سے متعلق آگاہی فراہم کرنا ہے اور مرض کی تیزی سے بڑھنے کی وجوہات اور سدباب کے حوالے سے معلومات فراہم کرنا ہے۔

رئیس کلیہ علم الادویہ جامعہ کراچی پروفیسرڈاکٹر فیاض وید نے کلمات تشکراداکرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے سیمینارز کا تواترکے ساتھ انعقاد ناگزیر ہے کیونکہ آگاہی کو فروغ دے کر ہی اس مرض پر قابوپایاجاسکتاہے۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں