
پیٹرولیم مصنوعات میں رکارڈ کمی کے بعد نگران وفاقی سرکار نے گیس کی قیمتوں میں 100 فیصد سے زائد اضافے کا فیصلہ کرلیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ گیس کمپنیوں کے نقصان میں 46 ارب روپے کا اضافہ ہوچکا ہے، گردشی قرضہ 2700 ارب روپے تک پہنچ چکا گیا۔
ذرائع کے مطابق اقتصادی جائزے سے قبل گیس کی قیمت 100 فیصد سے زائد بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے
سوئی گیس کی قیمت نہ بڑھانے سے185 ارب روپے اور گھریلو صارفین کیلئے آرایل این جی کی قیمتیں نہ بڑھانے سے 21 ارب کا شارٹ فال کا امکان ہے۔
