ججز نے آئین کی بلادستی قائم کرنے کیلئے پارلیمنٹ کو سپریم تصور کیا ہے،لیاقت ساہی

سیاسی و سماجی رہنما لیا قت علی ساہی نے سپریم کورٹ آف پاکستان کی طرف سے سپریم کورٹ پروسیجرل ایکٹ کو درست قرار دئیے جانے پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دس ججز کو زبردست خراج تحسن پیش کرتے ہیں جنہوں نے آئین کی بلادستی کو قائم کرنے کیلئے پارلیمنٹ کو سپریم تصور کیا ہے ملک کا آئین بھی یہی کہتا ہے لیکن ماضی میں نظریہ ضرورت کے تحت سپریم کورٹ فیصلہ کرتی رہی ہے اور پارلیمنٹ کی طرف سے کی جانے والی قانونی سازی کو آئین کے متصادم قرار دے کر کالعدم قرار دیتی رہی ہے جسے تمام طبقے نظریہ ضرورت تصور کرتے رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس فائز عیسی کو کریڈٹ جاتا ہے کہ ایسے حالات میں فُل کورٹ تشکیل دے کر اس بحث کو ختم کردیا ہے کہ سپریم پارلیمنٹ ہے اس فیصلے کو تمام سیاسی پارٹیوں اور طبقوں نے زبردست سراہا ہے اور اُن ججز کے فیصلے پر تشویش کا اظہار بھی کررہے ہیں جن پانچ ججز نے اس کے خلاف اپنا نوٹ دیا ہے ۔ یہ بھی تاریخ کا حصہ ہے کہ ان ججز نے ماضی میں جو فیصلے کئے ہیں اُنہیں پارلیمنٹ میں مداخلت کے ساتھ ساتھ آئین کو ری رائٹ کرنے کے مترادف ہے اس طرح کی رائے رکھنے والے ججز میں سے کچھ مستقبل میں چیف جسٹس آف پاکستان بھی بنیں گے جوکہ آئین کی بالادستی اور پارلیمنٹ سپر میسی پر یقین نہیں رکھتے بلکہ سیاسی وابستگیوں کو ترجیح دیتے رہے ہیں اس پر تمام طبقوں کو سوچ بیچار کرنی ہوگی ان میں اکثریت ججز کی تقرری بھی پک اور چوز کی بنیاد پر ہوئی ہے اس لئے ضروری ہے جوڈیشل کونسل میں اس اہم مسئلے کو پیش کرکے آئین کے متصادم سوچ کا احتساب کیا جانا چاہئے۔

لیاقت علی ساہی  کا کہنا تھا کہ ایکٹ میں چیف جسٹس کے اختیارات کو تقسیم کیا گیا تھا کہ سوموٹو اور بینچ تشکیل دیتے وقت دو سینئر موسٹ ججز سے مشاورت کریں اس کو بھی اکثریت نے حق میں اور چھ ججز نے اختلافی نوٹ دیا ہے اس کا مطلب ہے کہ چھ ججز اس قانون سازی کو آئین کے متصادم سمجھتی ہے لیکن یہاں ایک فکر جنم لے رہی ہے کہ جب ایکٹ کو درست قرار دیا گیا ہے تو پر اس میں کچھ شقوں کو تسلیم کرلینا اور کچھ کو مسترد کردینا اصولی طور پر درست نہیں ہے اعلی عدلیہ کے جسٹسز کو اس کو جائز لینا چاہئے البتہ عوامی رائے عامہ پارلیمنٹ کی قانون سازی کو درست قرار دے رہی ہے بلکہ آئین کے عین مطابق سمجھتی ہے چونکہ ماضی ہم نے دیکھا ہے کہ کچھ چیف جسٹس نے کس طرح بینچوں کی تشکیل میں من پسند کی بنیاد پر بینچ تشکیل دے غیر آئینی فیصلے دئیے ہیں اور سوموٹو 184/3 کو کس طرح اپنی منشاء کیلئے استعمال کیا ہے یہی وجہ تھی کہ پارلیمنٹ مجبور ہوئی کہ قانون سازی کے ذریعے اس ناانصافی اور ڈکٹیٹر شپ کو ختم کیا جائے اس پر یقینا وہ ججز قابل تحسین ہیں جنہوں نے عدل کے نظام کو درست کرنے کی طرف اپنافیصلہ دیا ہے۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں