
اسرائل پرغیرمتوقع حملوں کی منصوبابندی کرنے والے ممکنہ طور القسام کے کمانڈر الضیف اپنا خاندان گوا کر بھی مشن پر عمل پیرا ہیں۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیل کے 7 قاتلانہ حملوں میں معجزانہ طور پر زندہ بچ جانے والے الضیف کی ایک تصویر تب کی ہے جب وہ محض 20 سال کے تھے
جدید ٹیکنالاجی سے بھی محفوظ الضیف کی کل تین تصاور بتائی جارہی ہیں، دوسری تصویر میں وہ نقاب لگائے ہوئے ہیں اور تیسری تصویر میں ان کا صرف سایہ ہے۔
کمانڈر الضیف کی اہلیہ، بیٹی اور بیٹا 2014 میں اسرائیل کی بمباری میں شہید ہوچکے ہیں جب کہ الضیف اب بھی غزہ سرنگوں کی بھول بھلیوں میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔
اسرائیل پر اس پُراسرار حملے کی منصوبہ بندی مبینہ طور پر الضیف نے مئی 2021 میں مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی فوجیوں کے حملے کے بعد منہ توڑ جواب دینے کے لیے شروع کی تھی۔
حماس کے خارجہ تعلقات کے سربراہ علی براکہ نے بھی حالیہ حملوں کی تصدیق کی کہ ہم 2 سال سے اس حملے کی تیاری کر رہے تھے۔
آپریشن کو ’’طوفان اقصیٰ‘‘ کا نام دیا گیا۔ اس حملے کی منصوبہ بندی پر عمل کرنے کے لیے ایک فرضی بستی بھی بنائی گئی جس میں اسرائیلی ٹھکانے بھی بنائے جس پر حماس کے جانبازوں نے حملے کی پریکٹس کی۔
فلسطین اور اسرائل کی حالیہ جنگ میں اب تک 13 سو اسرائلی مارے جا چکے اور 12 سو فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔
