سپریم کورٹ میں پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ 2023 کیخلاف درخواستوں پر سماعت

سوال کہ چیف جسٹس کے اختیارات کو کم نہیں، محدود کیا جا رہا ہے،چیف جسٹس کے اختیارات کو دیگر ججز کے ساتھ بانٹا جارہا ہے،ہمارے پاس کافی مقدمے ہیں جو کہ بڑھتے جارہے ہیں:چیف جسٹس

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے تشکیل کردہ فل کورٹ بنچ ’سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ 2023‘ کے خلاف دائر 9 درخواستوں پر سماعت کر رہا ہے جسے براہ راست نشر کیا جا رہا ہے۔

وکیل اکرم چودھری نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کا سیکشن 5نظرثانی میں اپیل سے متعلق ہے،ایکٹ کے سیکشن 3 میں 148 تھری کے کیسز کیلئے ججز کمیٹی بنائی گئی ہے۔

ایڈووکیٹ اکرم چودھری نے اعلیٰ عدالت کو بتایا کہ سیکشن تی آئین اور سپریم کورٹ رولز سے متصادم ہے،سیکشن 3 کے تحت 184 تھری کا ہر معاملہ 3 رکنی کمیٹی کے پاس جانا خلاف آئین ہے۔پارلیمان نے اختیارات کی آئینی تقسیم کی خلاف ورزی کی ہے۔

دوراں سماعت چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ سوال کہ چیف جسٹس کے اختیارات کو کم نہیں، محدود کیا جا رہا ہے،چیف جسٹس کے اختیارات کو دیگر ججز کے ساتھ بانٹا جارہا ہے،ہمارے پاس کافی مقدمے ہیں جو کہ بڑھتے جارہے ہیں۔

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ کوشش ہوگی آج کیس کا اختتام کرلیں، ایک کیس کو لیکر نہیں بیٹھ سکتے۔اس قانون کا اطلاق آئندہ کے چیف جسٹس پر بھی ہوگا، اب کوئی پورا نہ پڑھے ہم پورا ایکٹ پڑھ چکے ہیں۔ کیس کرنے کا شوق ہے مگر پٹیشنر عدالت میں ہی موجود نہیں۔

چیف جسٹس نے وکیل اکرم چودھری سے استفصار کیا کہ کیا آپ نے دلائل صرف نیوز رپورٹس کی روشنی میں دے رہے ہیں۔ وکیل اکرم چودھری نے بتایا کہ ہمارے پاس پارلیمنٹ کارروائی کا ریکارڈ ہی نہیں۔

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سوال کیا کہ کیا آپ نے سپیکر قومی اسمبلی کو خط لکھا؟ وکیل اکرم چودھری نے کہا کہ نہیں میں نے ریکارڈ کے لیئے خط نہیں لکھا۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں