
شہید میرمرتضیٰ بھٹو کی 27ویں برسی پر اپنے جاری بیان میں پاکستان پیپلز پارٹی (شہید بھٹو) کی چیئرپرسن غنویٰ بھٹو نے کہا ہے کہ آج سے 27 سال قبل 70 کلفٹن کا سانحہ وجود میں لایا گیا، جس میں میرمرتضیٰ بھٹو کو 6 ساتھیوں سمیت قتل کروایا گیا۔
چیئرپرسن شہید بھٹو کا کہنا تھا کہ اس وقت میرمرتضیٰ بھٹو سندھ اسمبلی کے میمبر اور اس وقت کی وزیراعظم بینظیر کی بھائی تھے، اس قتل عام کو 27 سال گذر چکے ہیں، مگر ہمیں ابھی تک انصاف نہیں ملا۔
انہوں نے کہا کہ عدالت نے چند دن قبل کیس کو دوبارہ کھولا ہے،اس کیس کے چند ملزمان مرچکے ہیں، پھربھی ہم عدالتی فیصلے کو بھترقدم سمجھتے ہیں، یہ بیحد ضروری ہے کہ اس مقدمے کو صاف شفاف چلایا جائے، سانحے کہ تمام ملزمان اور ملوث تمام کرداروں کو سزا دی جائے، اگر ایسا نہیں کیا گیا تو یہ مقدمہ پاکستان کے عدل کے دامن پر نہ ملٹنے والہ داغ بن کر رہے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر اس ملک میں جوری کا انصاف ہوتا تو ہمیں 27 سال قبل انصاف مل جاتا، مگر جس سسٹم میں ایک جج کو فیصلا کرنا ہو تو انصاف ملنا نہ ممکن ہوجاتا ہے، خاص طور پر جب ملزم بااثر ہو تو ایک جج فیصلہ آسانی سے سنا سکتا، کیوں کہ انہیں دھمکایہ جاتا ہے، قدمے میں 120 گواہان کو سنا گیا اس کیس کا فیصلہ ایک بھادر جج بھی سنا سکتا تھا۔
چیئرپرسن پاکستان پیپلز پارٹی شہید بھٹو کا کہنا تھا کہ اس وقت بڑا مسئلا ماحولیات کا ہے، ہم ماحولیات کو انصاب کے بغیر ٹھیک نہیں کرسکتے، ماحولیات کا اصل سبب انصاف کا نہ ہونا ہے، امیر لوگوں نے دھرتی کا ایسا حشر کیا ہے کہ اب دھرتی نے بھی ظلم و استحصال بردداشت کرنے سے انکار کردیا ہے۔غیر موسمی برساتوں اور زلزلوں کا آنا دھرتی کا احتجاج ہے،دھرتی ان تباہیوں کے زبان سے کہ رہی ہے کہ اب وہ زیادہ تباہی بردداشت نہیں کرسکتی۔
غنویٰ بھٹو کا کہنا تھا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو اور شہید میرمرتضیٰ بھٹو کی جدوجہد ہی حقیقی جدوجہد ہے جو تاریخ میں یاد رکھی جائے گی۔وقت تبدیل ہو رہا ہے ہمیں بھی تبدیل ہونا پڑے گا۔
