
کراچی: کراچی بار کونسل کے انتخابات کے حوالے سے سرگرمیاں شروع ہوگئیں، کراچی بار کے سابق صدر ایڈووکیٹ اشفاق علی گلال اور رکن سندھ بار کونسل حسین بخش ساریو نے کراچی بار کونسل کے انتخابات کے لیے مشترکہ پینل تشکیل دے دیا۔حسین بخش ساریو کو کراچی بار ایسوسی ایشن کی جانب سے 2024 کے لیے جنرل سیکرٹری نامزد کیا گیا۔
اس سلسلے میں کراچی کے نو بہار ہوٹل میں بار کونسل کے انتخابات کے حوالے سے ایک شاندار اور پر وقار تقریب کا انعقاد کیا گیا جس کی میزبانی اشفاق علی گلال، حسین بخش ساریو، جاوید قادر مہر، آفتاب احمد مغیری، مظفر علی مہر، مزمل قریشی نے کی. جبکہ فرحان، قاضی اور ان کی ٹیم، سندھ بار کونسل کے اراکین عارف داؤد، فہیم ضیاء، محمد اشرف سائمن، مولابخش کاٹیان کے وکیل اشفاق احمد عباسی، صداقت مغیری اور دیگر سینکڑوں وکلاء نے تقریب میں شرکت کی۔
تقریب کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے کیا گیا اور بعد ازاں ملک بھر میں شہید اور جاں بحق ہونے والے وکیلوں کی مغفرت کے لیے دعائے مغفرت کی گئی،

اس موقع پر تقریب سے معروف قانون دان محمد اشرف سمون نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ووٹ لینے کے بعد وکلا دوسروں کی نمائندگی کرتے ہیں جو سراسر غلط ہے، ہمیں کسی لالچ میں سیاسی لوگوں کی نمائندگی نہیں کرنی چاہیے، بلکہ کالے کوٹ والے کی نمائندگی کرنی چاہیے، جس کی وجہ سے ہمیں عزت ملتی ہے. حسین بخش ساریو کو عرصے سے جانتے ہیں، وہ نہ جھکنے والا اور نہ ہی کسی سے ڈکٹیشن لینے والا ہے، اس لیے حسین بخش ساریو کو ووٹ دیں اور ہمیں امید ہے کہ وہ ہم کو مایوس نہیں کریں گے۔
اس موقع پر کراچی بار ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری کے امیدوار حسین بخش ساریو نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کراچی بار ایسوسی ایشن محض ایک ایسوسی ایشن نہیں بلکہ ایک ادارہ ہے، افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ کراچی بار ایسوسی ایشن ماضی والا نہیں رہا کراچی بار جب حرکت میں آتا تھا تو پورا ملک حرکت میں آتا تھا، میں ہمیشہ پروفیشنل رہا ہوں دوستوں نے موقع دیا تو ہم کراچی بار اور وکلاء برادری کی بھرپور خدمت کریں گے۔
کراچی بار کے سابق صدر اشفاق علی گلال نے کہا کہ ہماری پوری جدوجہد کا محور کراچی بار ایسوسی ایشن اور وکلا برادری کے مسائل ہیں جن کے حل کے لیے ہمیں جدوجہد کرنی ہے، لائبریری سمیت دیگر مسائل ہیں جن کے لیے ہم دن رات جدوجہد کریں گے۔ تقریب سے مرزا، راجہ محمد علی، اظہر علی، بادشاہ منان، غلام علی، میڈم شکرفرید میمن اور دیگر نے خطاب کیا اور اشفاق علی گلال اور حسین بخش ساریو کے پینل کی مکمل حمایت کی.
