
سپریم کورٹ نے نیب ترامیم کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے اسے کالعدم قرار دے دیا
نیب ترامیم کالعدم ہوتے ہی عوامی عہدوں پر بیٹھے تمام افراد کے کیسز بحال ہو گئے ہیں۔
مطابق سپریم کورٹ نے پی ڈی ایم حکومت کی جانب سے کی گئی نیب ترامیم کو کالعدم قرار دے دیا ہے
چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے تین رکنی بینچ کا فیصلہ دو ایک سے اکثریت سے سناتے ہوئے اس فیصلے میں جسٹس منصور علی شاہ کا اختلافی نوٹ بھی شامل کیا ہے۔ تاہم یہ اختلافی نوٹ عدالت میں پڑھ کر نہیں سنایا گیا۔
چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست کو بھی قابل سماعت قرار دیا گیا جب کہ پی ڈی ایم کی سابقہ حکومت کی جانب سے کی گئی ترامیم کو کالعدم قرار دیتے ہوئے 500 ملین کی حد تک نیب ریفرنس خارج قرار دینے کی شق کو کالعدم قرار دیتے ہوئے سروس آف پاکستان سے متعلق نیب کی شق بھی بحال کر دی۔
