
قمبر ( نامہ نگار) سندھ کے ضلعہ قمبر شہدادکوٹ میں محکمہ صحت کرپشن کا گڑھ بن گیا، غریب، مسکین اور حاملہ خواتین میں تقسیم کرنے کیلئے آئی ہوئی مچھر دانیاں پیسوں کے عوض فروخت کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔
ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسر ڈاکٹر ذوالفقار علی تنیو نے مچھر دانیاں پیسوں کے عوض فروخت کرنے کے زیر الزام آنے والی خاتون سپروائزر اقبال بھٹو کے خلاف تفتیش کیلئے تین رکنی کمیٹی تشکیل دیدی۔

ادھر سرکاری ادویات میں کرپشن کا معاملہ سامنے آنے پر ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر نے تمام لیڈی ہیلتھ سپروائزرز سے مفت مچھر دانیاں تقسیم کرنے کا ریکارڈ بھی طلب کر لیا ہے۔
ضلع قمبر شہدادکوٹ کے عوام نے مفت مچھردانیاں اور ملیریا سے بچائو کی گولیاں غریب اور حاملہ خواتین میں تقسیم کرنے کی بجائے پیسوں کے عوض فروخت کرنے کے عمل کی شدید مذمت کرتے شفاف تحقیقات اور سخت کارروائی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

