
اسلام آباد: سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے نیب ترامیم کےخلاف چیئرمین پی ٹی آئی کی درخواست پر سماعت کی، حکومت کی جانب سے اٹارنی جنرل منصور اعوان عدالت میں پیش ہوئے۔
دوران سماعت چیف جسٹس نے کہا کہ نیب نے 50 کروڑ سے کم کرپشن کے مقدمات واپس لے لیے،کس قانون کے تحت یہ تفریق بنائی گئی ہے؟
وکیل مخدوم علی خان نے کہا کہ پاکستان میں احتساب کے نظام کا محافظ نیب ہے۔
جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ نیب کے دائرے سے نکلنے والےکسی اورقانون کے تحت احتساب کے عمل میں شامل ہوں گے، کیا 50 کروڑ کی حد اس لیے مقررکی گئی کہ بڑی مچھلی کو پکڑا جائے؟
جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ نیب قانون کے ذریعے سیاسی انتقام کاسلسلہ ختم ہوناچاہیے۔
