فاطمہ کی گردن پر نشان اور بازو ٹوٹا ہوا تھا، ڈر سے بیان نہیں دیا: والدہ

والدہ کا کہنا تھا کہ فاطمہ کی گردن پر تشدد کے نشانات تھے اور اس کا ایک بازو بھی ٹوٹا ہوا تھا، میرے اور بچے بھی اسد شاہ کے پاس تھے وہ سلامت پہنچنے تک کوئی بیان نہیں دیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ میری دوسری بیٹی بھی ان کے پاس تھع جو خوف میں مبتلا تھی اور کچھ بھی نہیں بتارہی تھی، جب مجھے بھی پتا چلا تو میں بھی ڈرگئی اور ڈر سے بیان نہیں دیا۔

انہوں نے کہا کے اسد شاہ کی اہلیہ فاطمہ پر تشدد کرتی تھی، بیٹی سے جب بھی پوچھا تو اس نے نہیں بتایا تھا۔

فاطمہ کی والدہ کا کہنا تھا کہ معصوم فاطمہ نو ماہ سے فیاض شاہ اور اسد شاہ کے پاس تھی، میں غریب ہوں، پہلے چانچھ بچے تھے مگر اب چار ہیں، ایک وقت کا کہانا بھی نہیں، حکومت سے اپیل ہے کہ مجھے انصاف دیا جائے۔

بچی کے جسم پر نشانات انجیکشن کے ہوسکتے ہیں،اسد شاہ

دوسری جانب پیر اسد کا کہنا ہے کہ ہماری گدی کو اللہ پاک نے عزت بخشی ہے، یہاں مردہ مرید بھی زندہ ہوجاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بچی کی 13 آگست کو طبعت خراب ہوئی تو اسے کلنک پر بھیجا گیا، ڈاکٹر نے جو دوائیں لکھ کر دیں وہ اسے دلوائیں، بچی کی پھر طبعت بگڑ نے پر اس کی ٹیسٹ کروائی جس میں پیلا رپورٹ ہوا۔

جسم پر نشانات انجیکشس کے ہوسکتے ہیں، مریدین ہمارے بچے ہیں، فاطمہ کے والدین بھی تعلقات اچھے ہیں مگر بیچ کے لوگ پتا نہیں کیوں معاملے پیدا کررہے ہیں۔

اسد شاہ کا کہنا تھا کہ سی سی ٹی وی فٹیجز کی رسائی بھی ہمیں ہی ہے، والدین کو وڈیو بھی ہم نے ہی دیں، مریدین ہمارے بچے ہیں اس لے انہیں ایئر کنڈیشن میں سلاتے ہیں۔

فاطمہ کو ہسپتال لایا گیا تو اسے موشن اور الٹی کی شکایت تھی، ڈاکٹر

فاطمہ کیس: ڈاکٹر کا کہنا ہے کے جب فاطمہ کو ہسپتال لایا گیا تو اسے موشن اور الٹی کی شکایت تھی، ہم نے دوائی دیں اور پرہیز بتائی۔

انہوں نے کہا کہ پھر رات کو ڈاکٹر اسد نے فون کرکے بتایہ کے بچی کا پیٹ سوج رہا ہے پھر اس کی میڈیسن اور پرہیز بتائیں۔

ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ دوسرے دن پھر اسد شاہ نے کہا کے بچی کی طبعت کے بارے میں بتایا پھر دوائی لکھ کردیں اور ہاسپیٹلاز کرنے کا مشورہ دیا۔

بازور پر نشان کے سوال پر ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ یہ نشان آئی ڈی فلوڈ کے وجہ سے بھی ہوسکتا ہے۔

ایس ایس پی خیرپور روحل کھوسوبچی فاطمہ کے گھر پہنچ گئے

دوسری جانب ایس ایس پی خیرپور روحل کھوسوبچی فاطمہ کے گھر پہنچے اور والدین سے بات چیت بھی کی۔

میڈیا سے بات کرتے ہوئے ایس ایس پی خیرپور روحل کھوسوکا کہنا تھا کہ پیر اسد کو گرفتار کیا گیا ہے، تفتیش میں ایس ایچ او کی ناکامی ملوث ہوئے تو اس کے خلاف بھی کارروائی ہوگی۔

ایس ایس پی خیرپور روحل کھوسو کا کہنا تھا کہ یہاں آنے کا پربز بھی یہ ہی ہے کہ بچی کی ہوالدہ مقدمہ درج کرانے کے لیئے آمدہ ہو۔

فاطمہ قتل کیس میں پولیس نے اسد شاہ، ڈاکٹر اور ایس ایچ او کو گرفتار

رانیپور: معصوم فاطمہ قتل کیس میں پولیس نے اسد شاہ، ڈاکٹر اور ایس ایچ او کو گرفتار کرلیا ہے۔

پولیس نے اسد شاہ، ڈاکٹر اور ایس ایچ او کو گرفتار کر کے تفتیش شروع کردی ہے۔

واضح رہے کہ معصوم فاطمہ سندھ کے ضلع خیرپور کی تحصیل رانیپور میں ایک پیر فیملی کے گھر میں ملازمہ تھی جہاں ان کے جان بحق ہونے کا واقعہ پیش آیا۔

سوشل میڈیا پر پچی کے تڑپ تڑپ کر جان بحق ہونے والی وڈیو جھنگل میں آگ کی طرح وائرل ہوئی جس کے بعد انتظامیا بھی متحرک ہوئی۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں