
سابق صوبائی وزیر عبدالرؤف صدیقی نے کہا کہ خاتم النبیین حضرت محمدﷺ کی حیات طیبہ ہمارے لئے روشنی کا مینار ہے اورزندگی کے کسی بھی مسئلے پر آپ ؐ کی حیات طیبہ سے رہنمائی حاصل کر کے سرخروہو سکتے ہیں۔آج ہمارے معاشرے کی تنزلی کی وجہ قرآن وسنت سے دوری ہے۔ہماری حرکتیں بنی اسرائیل کی طرح ہیں اور ہم نتائج غزوہ بدر کی طرح چاہتے ہیں یہ کیسے ممکن ہوسکتاہے۔انسان اپنی زندگی میں یا توکچھ ایسالکھے جس کو ہمیشہ پڑھا جائے یا پھر کچھ ایسا کرے جس پر ہمیشہ لکھا جائے۔ان خیالات کا اظہارانہوں نے شعبہ سندھی جامعہ کراچی کے زیر اہتمام آڈیوویژول سینٹرجامعہ کراچی میں عبدالرؤف صدیقی کی تصنیف: سیرتِ خیرالبشر ﷺ کے سندھی ترجمہ کی تعارفی تقریب ورونمائی سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
رؤف صدیقی نے مزید کہا کہ اللہ تعالیٰ جس سے چاہتاہے کام لے لیتاہے،میری آئے دن عدالت میں پیشی کے باوجود اور بغیر کسی سبب کے ضمانت منسوخ ہونے پر جیل جاناپڑتاتھا اوراسی دوران جیل ہی میں مجھے سیرتِ خیرالبشر ؐ پر کتاب لکھنے کا شرف حاصل ہوا۔مجھے خوف تھا کہ میں جس عظیم ہستی پر لکھنے جارہاہوں اس میں مجھ سے کوئی غلطی نہ ہوجائے لیکن جب اس عظیم ہستی پر لکھنا شروع کیا تومیری بے ربط تحریر کو ربط ملی اور مجھ پر الفاظوں کی یلغارشروع ہوگئی۔
اس موقع پر جامعہ کراچی کے وائس چانسلر پروفیسرڈاکٹر خالد محمودعراقی نے کہا کہ بدقسمتی سے ہم جس معاشرے میں رہتے ہیں وہ تحقیق کرنے کے بجائے کٹ اینڈ پیسٹ کا معاشرہ بن چکاہے جس کی وجہ سے ہم اپنی سوچ،فکر اور اظہارکرنے سے قاصر ہوتے جارہے ہیں۔تمام مشکلات اور مسائل کا حل سیرت طیبہ میں موجود ہے،حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ پر عمل کیے بغیر دنیا میں امن قائم نہیں ہوسکتا۔ سیرت النبیؐ سے ہر فرد انفرادی اور معاشرہ اجتماعی طور پر بہتر طور پر رہنمائی حاصل کرسکتا ہے۔پوری مسلم اُمہ کی ترقی اور تمام مسائل کا حل سیرت طیبہ میں نہاں ہے،عصر حاضر میں مسلم اُمہ کودرپیش مسائل اور چیلنجز کامقابلہ حضور ؐ کی سیرت مبارکہ سے رہنمائی حاصل کئے بغیر ممکن نہیں ہے۔ ڈاکٹر خالد عراقی نے مزید کہا کہ میں عبدالرؤف صدیقی کو اس عظیم ہستی کی سیرت پر کتاب لکھنے پر مبارکباد پیش کرتاہوں۔ اللہ تعالیٰ جس سے چاہتاہے اس سے کام لیتاہے انسان اپنی مرضی سے کچھ نہیں کرسکتااور عبدالرؤف صدیقی خوش نصیب ہیں کہ ان سے اللہ تعالیٰ نے یہ کام لیا۔
ہمیں اپنی عملی زندگی کے ہر ہر پہلو پر حضور اکرمؐ کی زندگی سے رہنمائی مل سکتی ہے،ڈاکٹر محمد اورنگزیب خان
شہید بینظیربھٹو دیوان یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسرڈاکٹر محمد اورنگزیب خان نے کہا کہ ہمیں اپنی عملی زندگی کے ہر ہر پہلو پر حضور اکرمؐ کی زندگی سے رہنمائی مل سکتی ہے،لیکن زندگی کے ہر ہر پہلو پر رہنمائی لینے کا انحصار ہم پر ہے۔حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذاتِ مبارکہ انسانی زندگی کی تمام جہات کے لئے ایک مکمل اُسوہ حسنہ ہے۔
رئیس کلیہ فنون وسماجی علوم جامعہ کراچی پروفیسرڈاکٹر شائستہ تبسم نے کہاکہ انسان کوئی بھی تحقیق یا علمی کاوش کرلیں لیکن حضوراکرمؐ کے مقام ومرتبہ تک کسی انسان کا پہنچناممکن نہیں ہے۔میں اتنی عمدہ اور نفیس تحریر عبدالرؤف صدیقی کو مبارکباد پیش کرتی ہوں،ان کی تحریر میں محبت اور عقید ت کی جھلک نظرآتی ہے۔
اس موقع پر سیرتِ خیرالبشر ؐ کا سندھی میں ترجمہ کرنے والے شعبہ سندھی جامعہ کراچی کے اسسٹنٹ پروفیسرڈاکٹر شیر مہرانی نے کہا کہ یہ کتاب پڑھتے ہوئے اور اس کا ترجمہ کرتے ہوئے میں کئی کیفیات سے گزرا تواس کو لکھنے والے کا کیاحال ہوگا۔یقینا وہ ایسے کیفیات سے گزرے ہوں گے کہ کئی راز ان پر منکشف ہوئے ہوں گے۔
شعبہ سندھی جامعہ کراچی کی چیئرپرسن پروفیسرڈاکٹر ناہید پروین نے کہا کہ یہ ہمارے لئے باعث افتخار ہے کہ سیرت نبویؐ کے موضوع پر سیرت خیرالبشر ؐ کی تصنیف کی تعارفی تقریب ورونمائی شعبہ سندھی کے زیر اہتمام منعقد ہورہی ہے۔مذکورہ کتاب کا سندھی میں ترجمہ شعبہ سندھی کے اسسٹنٹ پروفیسرڈاکٹر شیر مہرانی نے کیا ہے جبکہ محکمہ ثقافت وسیاحت حکومت سندھ کی جانب سے اشاعتی مراحل میں ہے۔تقریب میں مختلف شعبہ جات کے اساتذہ اور طلبہ کی کثیر تعدادنے شرکت کی۔
