
کراچی: نومبر میں دبئی میں اقوام متحدہ کی موسمیاتی تبدیلی کانفرنس-2023 (COP-28) میں عالمی برادری پاکستان کے ماحولیاتی مسائل کے باعث مالی امداد دینے پر غور کرے گی۔اس بات کی یقین دہانی متحدہ عرب امارات کے قونصل جنرل بخیت عتیق الریمیتھی نے نیشنل فورم فار انوائرمنٹ اینڈ ہیلتھ کے زیر اہتمام "شہری ٹرانسپورٹ کو موسمیاتی تبدیلی کے مطابق ڈھالنے” کے موضوع پر منعقدہ کانفرنس میں بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے دی۔ متحدہ عرب امارات کے سفارت کار نے بتایا کہ وہ پاکستان میں برسوں سے قیام پذیر ہیں اور اس دوران پاکستان پر موسمیاتی تبدیلی کے رجحان کے بڑے پیمانے پر اثرات کے ذاتی طور پر گواہ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے سربراہان مملکت، اعلیٰ حکام اور ماحولیاتی ماہرین COP-28 میں پاکستان کو درپیش ماحولیاتی مسائل اور اس سے نمٹنے کیلئے درکار مالی معاونت پر بات چیت کریں گے۔ ریمیتھی نے کہا کہ عالمی برادری یقینی طور پر عالمی بجٹ کا ایک بڑا حصہ فراہم کرے گی جس کا مقصد پاکستان میں سیلاب، شدید بارشوں اور گرمی کی لہروں جیسے واقعات کی وجہ سے ہونے والی بڑے پیمانے پر تباہی کی وجہ سے صورتحال سے نمٹا جا سکے۔
متحدہ عرب امارات کے سفارت کار کا کہنا تھا کہ کہ متحدہ عرب امارات کے حکمران پاکستان کی مکمل حمایت کریں گے۔ متحدہ عرب امارات کے سفارت کار نے کہا کہ وہ پوری کوشش کر رہے ہیں کہ پاکستانی حکومت آئندہ COP-28 میں فعال طور پر حصہ لے تاکہ عالمی برادری کے سامنے ملک کے موسمیاتی خطرات کو مؤثر طریقے سے اجاگر کیا جا سکے۔ ریمیتھی نے کہا، "میں سمجھتا ہوں کہ آج کی کانفرنس کے غور و خوض اور سفارشات پاکستان کی جانب سے COP-28 میں فعال شرکت کی تیاری کی جانب ایک قدم ہے۔” انہوں نے تجویز دی کہ غیر سرکاری تنظیموں کو پاکستان کے ماحولیاتی چیلنجز اور ان کے ممکنہ حل کو اجاگر کرنے کے لیے ایسی مزید کانفرنسیں منعقد کرنی چاہئیں۔
انڈس ہسپتال کے سی ای او ڈاکٹر عبدالباری خان نے کہا کہ گزشتہ چند سالوں میں ماحولیاتی انحطاط نے پاکستانیوں کی جسمانی اور ذہنی صحت کو بڑے پیمانے پر متاثر کیا ہے۔
ڈاکٹر عبدالباری خان کا کہنا تھا کہ کہا کہ ماحولیاتی حالات میں بہتری پاکستانیوں کو صحت مند رکھنے اور بیماریوں اور صحت سے متعلق مسائل سے نمٹنے کے لیے بڑے پیمانے پر عوامی اخراجات کو کم کرنے میں بہت اہم کردار ادا کرے گی جن کا براہ راست تعلق ماحولیات سے ہے۔
سندھ حکومت کے سابق سیکریٹری ماحولیات و جنگلات شمس الحق میمن نے امید ظاہر کی کہ کراچی سمیت پاکستان کے بڑے شہروں میں بس ریپڈ ٹرانزٹ سسٹم (BRTS) اور اربن ریل سروس کی شکل میں ماس ٹرانزٹ کی جدید سہولتیں ماحولیات سے نمٹنے میں انتہائی مددگار ثابت ہوں گی۔ کراچی میں بی آر ٹی ایس کی تعمیر کے ساتھ ساتھ سندھ کے چھوٹے شہروں اور قصبوں میں پبلک ٹرانسپورٹ کی سہولیات کو بھی اپ گریڈ کیا جائے۔ معروف تاجر میاں زاہد حسین نے شہر کے صنعتکاروں کی جانب سے یقین دلایا کہ وہ پاکستان میں موجودہ موسمیاتی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ماحولیاتی تحفظ کے پروٹوکول پر عمل کرنے کی پوری کوشش کریں گے۔ کراچی میں بی آر ٹی ایس کے جنرل مینیجر عبدالعزیز نے سامعین کو بتایا کہ بڑے شہروں میں ماس ٹرانسپورٹیشن کی جدید سہولیات کی تعمیر میں حکومت کے لیے فنڈز کی ضرورت ایک بڑا چیلنج ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسی وجہ سے عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک سمیت غیر ملکی ڈونر ایجنسیاں ایسے منصوبوں میں شامل تھیں۔ انہوں نے کہا کہ گرین لائن بی آر ٹی ایس کراچی میں اپنے جدید ترین بس فلیٹ اور پیپر لیس ٹکٹنگ سسٹم کے ساتھ کام کر رہی ہے جس سے شہر میں ماحولیاتی مسائل بشمول ٹریفک کے ہجوم کے مسئلے کو بہتر بنانے میں مدد مل رہی ہے۔
ماہر ماحولیات سید عمر عارف نے کہا کہ کراچی جیسے شہروں میں ماس ٹرانزٹ سسٹم کو تیزی سے تعمیر کیا جانا چاہیے کیونکہ گاڑیوں کے نقصان دہ اخراج نے ماحول کو بڑے پیمانے پر تباہ کیا ہے۔ سینئر انجینئرنگ کنسلٹنٹ اشعر لودھی نے کہا کہ کراچی میں مکمل طور پر کام کرنے والی بی آر ٹی ایس شہر کی ٹریفک اور آلودگی کے مسائل کو کم کرکے کراچی والوں کو بڑے پیمانے پر ریلیف فراہم کرے گی۔ ایک ماحولیاتی صحافی شبینہ فراز نے اس بات پر زور دیا کہ جدید نقل و حمل کے نظام کی منصوبہ بندی میں خواتین افرادی قوت اور طالب علموں کی روزمرہ سفر کی ضروریات کو مدنظر رکھا جانا چاہیے۔
