اگلا وزیراعلیٰ ایم کیو ایم اور جی ڈی اے کا مشترکہ ہوگا: جی ڈی اے / ایم کیو ایم پاکستان

کراچی(رپورٹ: ایے بی سومرو)  جی ڈی اے وفد کی سردار عبدالرحیم اور صفدر  عباسی کی قیادت میں ایم کیو ایم پاکستان کے مرکز بہادرآباد آمد،جی ڈی اے وفد کا استقبال ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر ڈپٹی کنوینئرز سید مصطفیٰ کمال، ڈاکٹر فاروق ستار اور اراکینِ رابطہ کمیٹی نے کیا۔

 ملاقات میں دونوں جماعتوں کے رہنماؤں کا سندھ میں نگران حکومت کے قیام سے متعلق لائحہ عمل پر  تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر ڈپٹی کنوینئر ایم کیو ایم ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ گزشتہ چند ماہ سے ایم کیو ایم اور جی ڈی اے کے درمیان رابطہ جاری ہیں دونوں جماعتوں کے درمیان ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے تیزی سے سیاسی سفر کو آگے کی طرف لے جا رہے ہیں، رعنا انصار کو اپوزیشن لیڈر بنانے کے لیے ایم کیو ایم اور جی ڈی اے میں مفاہمت ہوئی ہم نے آج یہ طے کیا ہے کہ اگلے انتخابات کے نتیجے میں آئندہ جو حکومت بننے جا رہی ہے وہ ایم کیو ایم اور جی ڈی اے کی ہے اگلا وزیراعلی ایم کیو ایم اور جی ڈی اے کا مشترکہ وزیراعلی ہوگا۔

 انہوں نے کہا کہ ظلم اور ناانصافی کے پندرہ سال کا طویل دورانیہ ہمیشہ کے لیے ختم کرینگے ایک ایسی حکمرانی قائم کرینگے جو سندھ کو ترقی کرنے والا صوبہ بنائے گی۔ہم نگران حکومت کے لیے امیدواروں کے ناموں کو صیغہ راز میں رکھیں گے بہت ساری باتوں پر ایم کیو ایم اور جی ڈی اے کے درمیان اتفاق ہوا ہے سیاسی جماعتوں کو مشترکہ ایجنڈا وضع کرنا چاہیے ہم پیچھے مڑ کر نہیں دیکھیں گے فی الحال ہم نے فیصلہ کیا ہم کوئی نام سامنے نہیں لائیں گے۔

جنرل سیکرٹری  جی ڈی اے ڈاکٹر صفدر عباسی  نے کہاکہ سندھ اسمبلی کے اندر خاتون اپوزیشن لیڈر کا آنا خوش آئند عمل ہے ہم مشاورت کی فضا کو برقرار رکھیں گے سندھ کو تباہی کی جانب دھکیل دیا گیا ہے پندرہ سال کے اندر سندھ اور اسکے شہری علاقوں کے ساتھ جو بربادی ہوئی ہے سب کے سامنے ہے سندھ سے کرپشن کا خاتمہ مشترکہ جدوجہد سے کرینگے ہماری ملاقاتیں جو ہو رہی ہیں اعتماد کی بنیاد پر ہو رہی ہیں اور سندھ کی تمام سیاسی قوتوں کو اکھٹا کرنا چاہتے ہیں۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں