عمران خان کو قانونی اور سیاسی مشورے دینے والوں نے جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھیجا ہے، لیاقت ساہی

سیاسی و سماجی رہنما لیاقت علی ساہی نے عمران خان کے خلاف عدالتی فیصلے پر اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے نظام کی ناکامی ہے اسے بار بار تجربوں سے گزارا جاتا ہے جس کی وجہ سے پچہتر سالوں میں ایک عام شخص کا جینا محال بنادیا گیا اور ملک کی معاشی صورتحال کو تباہ کردیا گیا ہے

انہوں نے کہا کہ  عمران خان بنیادی طور پر سیاست کے بنیادی فلسفے کو سمجھتے ہیں نہیں تھے انہیں معلوم ہی نہیں تھا کہ ایک عام شخص کے مسائل کیا ہیں صرف اشرافیہ کے ترجمان بنے رہے ۔ سیاست میں اختلاف رائے کیا جاتا ہے مخالفت برائے مخالفت کرنے والا کوئی بھی سیاسی رہنما عوام کی ترجمانی نہیں کرسکتا جس کا مظاہرہ عمران خان اپنے ساڑھے تین سالہ اقتدار کے ادوار میں کیا ہے بلکہ اپنے ذاتی معاملات میں بھی شفافیت اور آئین و قانون کے مطابق نہیں رکھ سکے جس کا خمیازہ اس نے ابھی ادا کرنا ہے ۔ تاہم ملک میں ایک سیاسی پارٹی پی ٹی آئی کو اب سیاسی جدوجہد کرنے ہوگی اب ان پر سیاسی جدوجہد کرنے کا وقت آیا ہے ماضی کی کوتائیوں اور خرابیوں پر نظر ثانی کرنی ہوگی اور مستقبل میں سیاست ملک آئینی ڈھنچے میں رہتے ہوئے اخلاقی قدروں کا تحفظ برقرار رکھتے ہوئے اپنا سیاسی سفر شروع کرنا ہوگا نہ کہ سوشل میڈیا پر مخالفین کو گالی گلوچ کرکے اپنا سیاسی چورن فروخت کرنا ہوگا ۔

لیاقت ساہی کا کہنا تھا کہ آج وہ لوگ بھی عوام کے سامنے بے نقاب ہوگئے ہیں جنہوں عمران پروجیکٹ کا آغاز ایک مصنوعی بنیاد پر گھڑ کر ملک ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے ان لوگوں کو بھی کٹہرے میں لانا ہوگا ان تمام تر تحفظات کے باوجود سیاسی پارٹیوں کو گراس روٹ پر مضبوط ہونا ملکی کی ترقی کا ضامن ہے اس کی روشنی میں میرا جیسا سیاسی ورکرز پی ٹی آئی کو آئینی جدوجہد کریں اور ماضی کی غلطیوں کا ازالہ کریں اور عمران خان اپنے اُپر لگائے گئے تمام الزامات کا جواب عدالتوں میں دیں اور سیاسی پارٹیوں سے مذاکرات کا عمل شروع کریں۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں