
اسلام اباد: فیس بوک پر ہونے والی دوستی بھارتی لڑکی کو پاکستان کھینچ لائی۔ 35 سالہ انجو کا تعلق بھارتی ریاست اترپردیش اور 29 سالہ نصراللہ کا تعلق پاکستان کے صوبہ خیبرپختونخواہ کے شہر اپر دیر سے ہے۔
مالاکنڈ ڈویژن کے ڈی آئی جی ناصر محمود ستی نے انجو اور نصراللہ کے نکاح کی تصدیق کی اور بتایا کہ بھارتی خاتون نے اسلام قبول کرکےاپنا نام فاطمہ رکھ لیا ہے۔

ڈی آئی جی مالا کنڈ کے مطابق دونوں کا نکاح ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی عدالت میں ہوا جس کے بعد بھارتی خاتون کو پولیس کی نگرانی میں عدالت سےگھر منتقل کردیا گیا ہے۔

نصراللہ کا کہنا ہے کہ انجو سے 2019 میں فیس بوک پردوستی ہوئی تھی، وہ پختونوں کے کلچر اور مہمان نواز سے بہت متاثر ہوئی
پاکستانی نوجوان نصراللہ سے شادی کے لیئے پہنچنے والی انجو نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہنا تھا کہ میں پاکستان میں بہت خوش اور مکمل محفوظ ہیں واپس آکر میڈیا، پولیس اور انتظامی اداروں کو تمام جوابات دوں گی۔
انجو کا کہنا تھا کہ وہ محفوظ ہیں، ان کے رشتیدار اور بچوں کو پریشان نہ کیا جائے۔

دوسری جانب انجو کے شوہر اروند کا کہنا ہے کہ انجو جئہ پور جانے کا کہہ کر گئی تھی، پھر اس نے فون کر کے بتایا کہ وہ لاہور میں ہے۔
اروند کا کہنا ہے کہ 2007 میں شادی ہوئی تھی اور دو بچے بھی ہیں، مجھے نہیں پتا کہ وہ پاکستان کیوں گئی ہے۔

اروند کا کہنا ہے کہ انجو کا معاملہ سیما حیدر سے الگ ہے کیوں کہ انجو پاکستان قانونی طریقیکار سے گئی ہیں ان کے پاس تمام کاغذات موجود ہیں، یہ نہیں پتا کہ اس کا ویزا کب اور کیسے لگا، وہ یہ کھ کر گئی تھی کہ وہ واپس آکر سب کچھ بتائی گی۔
