
پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما لیاقت علی ساہی نے حافظ نعیم الرحمن کے بیان پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہورہا ہے کہ حافظ نعیم الرحمن ابھی تک میئر کے الیکشن میں بدترین شکست کے صدمے سے باہر نہیں آئےجس کی وجہ سے بہکی بہکی باتیں کررہے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کوان کا پراپر علاج کروانا چاہئے ان کے غیر جمہوری بیان کی پاکستان پیپلز پارٹی کے تمام ورکرز سخت مذمت کرتے ہیں اور باور کرانا چاہتے ہیں کہ بلاول بھٹو زرداری نے وزیر اعظم ووٹوں کی اکثریت سے بننا ہے
رہنما پاکستان پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے کبھی چور دروازے سے اقتدار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی البتہ پاکستان پیپلز پارٹی ہمیشہ سےسول بالادستی پر یقین رکھتی ہے اور تمام اداروں کو آئین کے طابع رکھنے کی خواں ہے اس جُرم کی پداش میں ماضی میں شہید ذولفقار علی بھٹو کا جوڈیشل قتل اور شہید بے نظیر بھٹو کادن دیہاڑے نشانہ بنایا جانا واضح ثبوت ہیں جو کہ جمہوریت کے لئے مثالی قربانیاں ہیں المیہ یہ ہے کہ جماعت اسلامی جس نے ہمیشہ آمروں کی گود میں بیٹھ کر جمہوریت کی پیٹھ میں چُھراگھونپہ ہے اسے بلاول بھٹو زرداری پر تنقید کرنے سے قبل اپنے گریبان میں جھانکنا چاہئے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ جسطرح تبدیلی کے نام پر ملک کو تباہ کیا گیا ہے اسے آئینی طریقے سے اقتدار سے فارغ کرنے میں پاکستان پیپلز پارٹی اور اتحادی پارٹیوں کا کلیدی کردار ہے جس کی وجہ سے آج ملک دیوالیہ ہونے سے محفوظ ہو گیا ہے ، اگر 2017 میں منتخب وزیر اعظم کے خلاف سازش کرکے اقتدار سے محروم نہ کیا جاتا اور عمران پروجکٹ کا تجربہ نہ کیا جاتا تو آج ملک کی معیشت اس قدر ڈانواں ڈول نہ ہوتی۔
لیاقت ساہی کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی عوام کے ووٹوں پر یقین رکھتی ہے عوام کی طاقت سے شہید ذولفقار علی بھٹو کے نواسے اور شہید بے نظیر بھٹو کے بیٹے کو ملک کا وزیر اعظم بنائے گی ۔ مرتضی وہاب اور سلمان مراد کی قیادت میں ان کی ٹیم نے عید قربان پر جسطرح آلائشوں کو اُٹھا کر صفائی و ستھرائی کا کام کیا ہے اس پر مبارکباد کے مستحق ہیں ان پر تنقید کرنے کے بجائے ان کی حوصلہ افزائی کی جائے تاکہ کراچی کے تمام حل طلب مسائل کوسب مل کر حل کریں۔
