حلقہ فکر و نظر کے زیر اہتمام سماجی کارکن اور معذور افراد کے حقوق کے سرگرم علمبردار جاوید رئیس کے اعزاز میں تقریب

حلقہ فکر و نظر کے زیر اہتمام سماجی کارکن اور معذور افراد کے حقوق کے سرگرم علمبردار جاوید رئیس کے اعزاز میں تقریب

کراچی: حلقۂ فکر و نظر کے زیرِ اہتمام سماجی کارکن اور معذور افراد کے حقوق کے سرگرم علمبردار جاوید رئیس کے اعزاز میں ایک باوقار تقریب کا انعقاد کیا گیا۔

تقریب میں سابق رکنِ سندھ اسمبلی کشور زہرا نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی، جبکہ غازی میڈیا ہاؤس کے سی ای او غازی صلاح الدین، ایڈووکیٹ سلیم تھاپڑا ، بزمِ اہلِ وفا کے چیئرمین سہیل بیگ نوری ایڈووکیٹ، شاہد خمیسا، معروف ہربلسٹ رانی انیس (رانی آپا)، حکیم مصطفیٰ ، ستار مندرہ، درشہوار نثار، وسیم عباسی، نعمان خورشید، نعیم احمد، ایڈمن ڈائریکٹر آرٹس کونسل شکیل احمد خان، شاہد محمود شاہد، زارا زاہد، سکندر ذوالقرنین، مومنہ سبطین، حسین علی اور پرینا، محمد بن عمر سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیات نے شرکت کی۔

مہمانِ خصوصی سابق رکنِ سندھ اسمبلی کشور زہرا نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں طویل عرصے سے خصوصی افراد کی فلاح و بہبود کے لیے کام کر رہی ہوں۔ انہوں نے جاوید رئیس کی خدمات کو سراہتے ہوئے حلقۂ فکر و نظر کی چیئرپرسن شاہدہ خورشید اور ان کی ٹیم کو اس شاندار تقریب کے انعقاد پر مبارکباد پیش کی۔

حلقۂ فکر و نظر کی چیئرپرسن شاہدہ خورشید نے جاوید رئیس کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ جاوید رئیس معذور افراد کے حقوق کے سرگرم علمبردار ہیں اور شہری تنظیموں، پالیسی ساز اداروں اور بین الاقوامی شراکت داروں کے تعاون سے جامع تعلیم، مساوی روزگار کے مواقع اور سماجی شمولیت کے فروغ کے لیے مؤثر کردار ادا کرتے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جاوید رئیس کو 2018ء میں امریکہ میں ان کی خدمات کے اعتراف میں انٹرنیشنل لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے نوازا گیا، جبکہ حکومتِ سندھ نے انہیں تمغۂ امتیاز سے بھی سرفراز کیا۔ ان کا یقین ہے کہ رسائی اور شمولیت ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔

حلقۂ فکر و نظر کی نائب صدر پروفیسر ڈاکٹر ساجدہ پروین نے کہا کہ جاوید رئیس کی جدوجہد کا بنیادی محور معذور افراد کے حقوق سے متعلق اقوامِ متحدہ کے کنونشن پر عمل درآمد، رکاوٹوں سے پاک ماحول کی تشکیل اور فیصلہ سازی کے عمل میں معذور افراد کی مؤثر نمائندگی کو یقینی بنانا ہے۔

حلقۂ فکر و نظر کے سرپرست شاہد خمیسا نے جاوید رئیس کو تمغۂ امتیاز ملنے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایک غیرمعمولی شخصیت ہیں، جنہوں نے اپنی ذات اور معذور افراد کے حقوق کے لیے مثالی جدوجہد کی۔ جاوید رئیس نوجوان معذور افراد کے سیلف ہیلپ گروپس، کمیونٹی آرگنائزیشن، تربیت اور حوصلہ افزائی میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں میں اور میری ٹیم ہمیشہ ان کے ساتھ کھڑی رہے گی۔

سہیل بیگ نوری ایڈووکیٹ نے تقریب کے انعقاد پر شاہدہ خورشید اور ان کی ٹیم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اس تقریب کے ذریعے انہیں جاوید رئیس کی خدمات سے آگاہی حاصل ہوئی، جو معاشرے کے لیے قابلِ قدر سرمایہ ہیں۔سماجی رہنما سلیم تھاپڑا ایڈووکیٹ نے کہا کہ جاوید رئیس ہمت، جدوجہد اور قابلیت کی روشن مثال ہیں۔ انہوں نے حلقۂ فکر و نظر کی قیادت کو ایسے بامقصد پروگرام منعقد کرنے پر سراہا اور ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔

حلقۂ فکر و نظر کے جنرل سیکریٹری اور معروف ٹی وی اینکر ڈاکٹر فرحانہ اویس نے جاوید رئیس کی خدمات پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ وہ جاپان اور امریکہ سے انڈیپنڈنٹ لیونگ کے شعبے میں تربیت یافتہ ماہر ہیں۔ انہوں نے اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین، این سی ڈی پی، کیپ انٹرنیشنل، ورلڈ بینک اور دیگر عالمی اداروں کے تعاون سے متعدد منصوبے کامیابی سے مکمل کیے۔

انہوں نے سندھ میں معذور افراد کے لیے سرکاری ملازمتوں کا کوٹہ دو فیصد سے بڑھا کر پانچ فیصد کرانے میں بھی کلیدی کردار ادا کیا۔غازی میڈیا ہاؤس کے سی ای اوغازی صلاح الدین نے کہا کہ جاوید رئیس نے اپنی معذوری کو کبھی ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دیا بلکہ اپنی صلاحیت، عزم اور مسلسل جدوجہد سے دوسروں کے لیے مشعلِ راہ بن گئے ہیں۔ تقریب کے اختتام پر حلقۂ فکر و نظر کے جوائنٹ سیکریٹری شاہد ساٹی نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں