بھارتی آبی دھشتگردی نا منظور، پیپلز پارٹی کا مرسوں مرسوں سندھو نہ ڈیسوں ریلیاں نکالنے کا اعلان

بھارتی آبی دھشتگردی نا منظور، پیپلز پارٹی کا مرسوں مرسوں سندھو نہ ڈیسوں ریلیاں نکالنے کا اعلان

کراچی: بھارتی آبی دھشتگردی نا منظور۔پیپلز پارٹی سندھ نے اتوار کو سندھ بھر میں مرسوں مرسوں سندھو نہ ڈیسوں احتجاجی ریلیاں نکالنے کا اعلان کردیا ہے۔ یہ اعلان پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار احمد کھوڑو نے اپنے جاری پارٹی پالیسی بیان میں کیا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کے پاکستان پیپلز پارٹی اپنے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے نعرے کے تحت اتوار 12 جولائی کو سندھ بھر کے تمام ضلعی ہیڈکوارٹرز میں مرسوں مرسوں سندھو نہ ڈیسوں احتجاجی ریلیاں نکالے گی اس ضمن میں پیپلز پارٹی کی تمام ضلعی تنظیمیں اپنے اپنے اضلاع میں پانی پر ڈاکے کے خلاف مرسوں مرسوں سندھو نہ ڈیسوں بھرپور طریقے سے احتجاجی ریلیاں نکالیں جس میں بھرپور عوامی شرکت یقینی بنائی جائے۔ پاکستان کے لئے سندھو دریاء اور پانی ہماری بقا اور زندگی ہے جس کا گلہ گھونٹنے نہیں دیا جائے گا۔بھارت کیجانب سے سندھ طاس معاھدے کو یکطرفہ معطل رکھنا بین الاقوامی معاھدے کی کھلی خلاف ورزی ہے جبکے بھارت سندھ طاس معاھدے کو یکطرفہ معطل کا ختم نہیں کرسکتا کیوں کے معاھدے کا مقصد پانی کی منصفانہ تقسیم اور آبی تنازعات سے بچاؤ ہے۔

نثار کھوڑو نے کہا کے پاکستان اور بھارت کے درمیاں  آبی معاھدہ 19 ستمبر 1960ع میں کراچی میں ہوا جس میں عالمی بئنک جے ثالث اور ضامن کا کردار ادا کیا اور معاھدے پر اس وقت کے پاکستان کے صدر ایوب خان اور بھارتی وزیراعظم جواھر لعل نھرو نے دستخط کئے اور معاھدے کے تحت پاکستان کو دریائے سندھ، جھلم اور چناب دریاء دئےگئے جبکے بھارت کو راوی، بیاس اور ستلج دریاء حوالے کئے گئے اور پاکستان کو مغربی دریاؤں کے پانی کے مکمل استعمال کا حق دیا گیا اور دونوں ممالک کے انڈس کمشنرز پر مشتمل مستقل انڈس کمیشن قائم کیا گیا تھا اور اختلافات کی صورت میں پہلے کمیشن پہر ثالثی عدالت سے رجوع کیا جا سکتا ہے اس لئے بھارت کیجانب سے سندھ طاس معاھدے کی یکطرفہ معطلی کو ثالثی عدالت نے بھی غیرقانونی قرار دےدیا ہے۔ انہوں نے کہا کے بھارت کیجانب سے پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش خطے کے امن کے لئے خطرہ ہوگی جبکے دریائے سندھ سے گذر بسر اور زندگی وابسطہ ہے اور کسی کی دریاء کا گلہ گھونٹ کر زندگیاں چھیننے کی کوشش کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دینگے۔

نثار کھوڑو نے کہا کے دریاؤں کے قدرتی بھاؤ اور پانی کے منصفانہ استعمال کے اصولوں کو تسلیم کیا جانا چاہئے کیوں کے پاکستان کو پانی احسان نے طور پر نہیں ایک بین الاقوامی معاھدے کے تحت دیا گیا اور بھارت کیجانب سے ہمارا پانی روکنا ہمارے وجود کے لئے خطرہ ہے اور پیپلز پارٹی سندھو دریاء کا گلہ گھونٹنے نہیں دے گی۔ سندھو دریاء اور اپنے پانی کے تحفظ کے لئے ہر فورم پر آواز اٹھائینگے اور سندھو دریاء کے پانی پر کسی کو ڈاکہ ڈالنے نہیں دینگے۔ پانی کے 1991ع معاھدے کے تحت صوبوں کے درمیان پانی کی شفاف تقسیم کی جائے اور چشمہ جھلم لنک کینال اور ٹی پی لنک کینال فلڈ کینالز ہیں جن کینالوں میں پانی کا مسلسل بھاؤ بند کیا جائے۔

اس پوسٹ پر تبصرہ کرنے کا مطلب ہے کہ آپ سروس کی شرائط سے اتفاق کرتے ہیں۔ یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جو اس وقت واپس لیا جا سکتا ہے جب آپ اس ویب سائٹ کے کسی بھی حصے کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے اپنی رضامندی کا اظہار کرتے ہیں۔

جواب چھوڑ دیں

براہ مہربانی اپنی رائے درج کریں!
اپنا نام یہاں درج کریں