چیئرمین نیو کراچی ٹاؤن کی زخمی تاجر کی عیادت،آواز دبانے پر سخت ردعمل
کراچی: چیئرمین نیو کراچی ٹاؤن محمد یوسف نے (NAKATI) نارتھ کراچی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری کے صدر فیصل معیز سے ملاقات کی اور بھتہ خوری کے خلاف کھڑے ہونے والے زخمی تاجر فرزند علی کی عیادت کی۔ اس موقع پر شہر میں بڑھتے ہوئے لاء اینڈ آرڈر کے مسائل اور بھتہ خوری کے واقعات پر گہری تشویش اور افسوس کا اظہار کیا گیا۔چیئرمین نیو کراچی ٹاؤن محمد یوسف نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک صورتحال ہے کہ کراچی میں کاروباری حضرات عدم تحفظ کا شکار ہیں اور منظم انداز میں بھتہ خوری کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز فرزند علی کو صرف اس لیے گولیاں ماری گئیں کیونکہ وہ بھتہ خوری کے خلاف ڈٹ کر کھڑے تھے۔ اس وقت وہ زخمی حالت میں ہیں جو کہ کھلی زیادتی اور ظلم ہے۔ ہ ایسے حالات میں کاروبار کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ یہ ناقابل برداشت ہے کہ تاجروں کو بھتہ خوری کی پرچیاں دی جائیں، بھتہ نہ دینے پر انہیں دھمکایا جائے اور یہاں تک کہ ان کی جان لینے کی کوشش کی جائے۔ انہوں نے آئی جی سندھ، متعلقہ اداروں اور حکومت سندھ سے مطالبہ کیا کہ تاجروں کو فوری تحفظ فراہم کیا جائے۔ فرزند علی پر حملہ کرنے والے عناصر کے خلاف فوری کارروائی عمل میں لائی جائے اور ذمہ داروں کو جلد گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے تاکہ تاجروں میں احساس تحفظ پیدا ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ بطور چیئرمین نیو کراچی ٹاؤن اور ٹاؤن انتظامیہ، نارتھ کراچی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری کے ساتھ ہر ممکن تعاون کے لیے تیار ہیں۔ اس وقت سب سے زیادہ ضرورت کراچی کے شہریوں اور تاجروں کو تحفظ فراہم کرنے کی ہے۔
اس موقع پر نارتھ کراچی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری کے صدر فیصل معیز نے کہا کہ کافی عرصے سے تاجروں کو بھتہ خوری کی پرچیاں موصول ہو رہی تھیں۔ فرزند علی بھتہ خوروں کے خلاف سرگرم عمل تھے جس کے باعث ان پر فائرنگ کی گئی اور انہیں زخمی کر دیا گیا۔انہوں نے مزید بتایا کہ پولیس کے اعلیٰ افسران سے رابطہ کیا گیا ہے جنہوں نے معاملے کو سنجیدگی سے لینے کی یقین دہانی کرائی ہے اور آئندہ 48 گھنٹوں میں پیش رفت کا وعدہ کیا ہے، جس پر تاجروں نے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔تاجروں نے مطالبہ کیا کہ شہر میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنایا جائے اور بھتہ خوری میں ملوث عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے تاکہ کاروباری سرگرمیاں بلا خوف و خطر جاری رہ سکیں۔
