
بینظیر انکم سپورٹ کی رقم آتے ہیں ڈوائیز ہولڈرز نے موج منانا شروع کردیے ہیں، رقم لینے کے لیے آنے والی مستحق خواتین کے فی کارڈ پر ایک ہزار روپے سے 15 سوروپے تک کٹوتی کی شکایات عام ہیں۔
بینظیر انکم سپورٹ کے سینٹرزپر سھولیات کا بھی فکدان ہے، خواتین کو پینے کا پانی بھی میسر نہیں ہوتا، دن بھر کھڑے کھڑے بیہوش ہوجاتی ہیں۔
گھر کا چولھا جلانے کے لیے آنے والی خواتین رش سخت گرمی کی وجہ سے بیحال ہوجاتی ہیں، ان کیلئے بیٹنے کا بھی انتظام نہیں کیا گیا
خواتین کا کہنا ہے کہ ڈوائیز مافیا طاقت ور بن چکی ہے، اسے کوئی پوچھنے والہ نہیں، رقم سے پہلے ذلت نصیب ہوتی ہے اور اس کے بعد بھی رقم کے کٹوتی کی جاتی ہے۔
مدد کے نام پر ذلت بھرے چند ہزار روپے دینا عورت کی تذلیل ہے: شائستہ کھوسہ

اس حوالے سے معروف سماجی رہنما شائستہ کھوسو کا کہنا تھ کہ جدید دور میں مدد کے نام پر ذلت بھرے چند ہزار روپے دینا عورت کی تذلیل ہے۔
انہوں نے کہا کہ دوائیز مافیا کرپٹ سسٹم میں اپنے پنجے گاڑ چکی ہے، شکایات کے باوجود انتظامیا ان کے خلاف تحرک لینے کو تیار نہیں۔
شائستہ کھوسو کا کہنا تھا کہ بینظیرانکم سپورٹ پروگرام سینٹرز پر پینے کے پانی کی بھی سھولت نہیں، انہوں نے کہا کہ اگر حکومت سنجیدگی سے خواتین کی مدد کرنا چاہتی ہے تو شفاف طریقی سے رقم دی جائے۔
