سندھ ہائی کورٹ کا بڑا فیصلہ، تمام پٹیشنز خارج، کورنگی فوڈ اسٹریٹ قانونی قرار
کراچی: سندھ ہائی کورٹ نے ایک اہم اور تاریخی فیصلے میں کورنگی ٹاؤن میں قائم فوڈ اسٹریٹ کو قانونی قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف دائر تمام پٹیشنز خارج کر دیں۔ عدالتِ عالیہ کے دو رکنی آئینی بینچ (جسٹس نثار پھمڑو اور جسٹس سلیم جیسر) نے آج کیس کی سماعت کے بعد یہ فیصلہ سنایا۔ت
یہ پٹیشن CPD نمبر 2384/2025 ایڈوکیٹ لئیق کوہستانی کی جانب سے سندھ حکومت کے خلاف دائر کی گئی تھی۔ سماعت کے دوران کورنگی ٹاؤن کی جانب سے بیرسٹر فہد فاروق اور بیرسٹر جہانگیر کلہوڑو نے دلائل دیتے ہوئے فوڈ اسٹریٹ کے قیام اور اس کی قانونی حیثیت کو واضح کیا۔
وکلاء کے مطابق، مذکورہ فوڈ اسٹریٹ کا آغاز 2006 میں اُس وقت کی ڈی ایم سی نے کیا تھا۔ بعد ازاں 2021 سے 2023 کے دوران جب ڈی ایم سیز کا نظام ختم کرکے ٹاؤن سسٹم بحال کیا گیا تو اس مقام پر قبضہ مافیا نے غیر قانونی قبضہ جما لیا۔ اس صورتحال کے پیش نظر 2023 میں ٹاؤن چیئرمین کورنگی محمد نعیم شیخ نے پٹیشن نمبر 5941/2023 دائر کی، جس میں عدالت نے ان کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے قبضہ ختم کروانے کی راہ ہموار کی۔
عدالتی فیصلے کے بعد ٹاؤن میونسپل کارپوریشن کورنگی نے 2025 میں اسی مقام پر جدید طرز کی فوڈ اسٹریٹ دوبارہ قائم کی، جس کا مکمل انتظام کورنگی ٹاؤن کے پاس ہے۔ اس منصوبے کو نجی کنٹریکٹر کے ذریعے مکمل کیا گیا، تاہم اس کی نگرانی اور انتظامی امور مکمل طور پر ٹاؤن انتظامیہ کے تحت ہیں۔ فوڈ اسٹریٹ میں مجموعی طور پر 80 اسٹالز قائم کیے گئے ہیں، جن سے حاصل ہونے والی آمدن ماہانہ چالان کی صورت میں کورنگی ٹاؤن کو ادا کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ، اس منصوبے کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ تقریباً 40 فیصد اسٹالز خواتین کے لیے مختص کیے گئے ہیں، جہاں وہ باعزت طریقے سے روزگار کما رہی ہیں۔
عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ کراچی میں اکثر سرکاری زمینوں پر قبضہ کرکے کمرشل پلازے تعمیر کیے جاتے ہیں، تاہم کورنگی ٹاؤن انتظامیہ نے اس زمین کو عوامی فلاح کے لیے استعمال کرتے ہوئے ایک خوبصورت اور مفید فوڈ اسٹریٹ قائم کی ہے۔
عدالت نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ ایک مثبت مثال ہے جہاں عوام کو تفریح اور روزگار دونوں سہولیات میسر آ رہی ہیں۔ معزز ججز نے مزید ریمارکس دیے کہ “یہاں کوئی تو ٹاؤن چیئرمین ہے جو عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کام کر رہا ہے اور شہریوں کو بہترین تفریحی سہولیات فراہم کر رہا ہے۔” عدالت نے خواتین کی شمولیت کو بھی سراہا اور کہا کہ 40 فیصد اسٹالز پر خواتین کا کام کرنا ایک قابلِ فخر اور حوصلہ افزا عمل ہے۔
ٹاؤن چیئرمین محمد نعیم شیخ کی جانب سے عدالت میں جمع کروائی گئی تحریری یقین دہانی میں کہا گیا کہ یہ پلاٹ ٹاؤن میونسپل کارپوریشن کورنگی کی ملکیت ہے اور مستقبل میں بھی اس فوڈ اسٹریٹ کا مکمل انتظام ٹاؤن انتظامیہ کے پاس ہی رہے گا۔ مزید برآں، 2025 میں اس معاملے پر دائر کی گئی تین دیگر پٹیشنز کو بھی عدالت نے مسترد کرتے ہوئے ٹاؤن میونسپل کارپوریشن کورنگی کے مؤقف کو درست قرار دیا۔ یہ فیصلہ نہ صرف کورنگی ٹاؤن بلکہ کراچی بھر کے لیے ایک اہم مثال ہے، جہاں عوامی مفاد، شفافیت اور بہتر شہری سہولیات کو قانونی تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔
