ہمدرد شوریٰ کراچی کا جنرل (ر) معین الدین حیدر کی زیر صدارت اجلاس
کراچی: ہمدرد شوریٰ کراچی کا اجلاس ہمدرد کارپوریٹ ہیڈ آفس،بحریہ ٹاؤن ٹاور طارق روڈ، کراچی میں اسپیکر ہمدرد شوریٰ، جنرل (ر) معین الدین حیدر کی زیر صدارت ہمدرد شوریٰ کے موضوع’خوف کی فضا انسان کا مضطرب ذہن’ پر منعقد ہوا۔ اجلاس کی میزبانی ہمدرد فاؤنڈیشن پاکستان کی صدر محترمہ سعدیہ راشد (ہلالِ امتیاز) نے کی، جبکہ معزز اراکینِ شوریٰ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جنرل (ر) معین الدین حیدر نے کہا کہ موجودہ عالمی جنگی صورتحال کے اثرات پوری دنیا کی طرح پاکستان پر بھی مرتب ہوئے ہیں۔ پیٹرول اور گیس کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا جس کے نتیجے میں مہنگائی میں شدت آئی، حتیٰ کہ بعض ممالک میں ایندھن کی راشننگ تک کی نوبت آ گئی۔ اس کے باوجود پاکستان نے اس صورتحال کا دانشمندی اور حکمت عملی کے ساتھ مقابلہ کیا۔
انہوں نے ایران کی استقامت اور جرات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ شدید عالمی پابندیوں اور دباؤ کے باوجود ایران نے اپنے اصولی مؤقف پر قائم رہ کر بڑی طاقتوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا، جو دیگر مسلم ممالک کے لیے ایک مثال ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مسلم دنیا کو اتحاد اور مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے تاکہ عالمی چیلنجز کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکے۔
فیکلٹی اف ہیلتھ اینڈ میڈیکل سائنسز کے ڈین اور ممتاز ماہر نفسیات پروفیسر ڈاکٹر رضا الرحمن نے اپنے خطاب میں انسانی نفسیات اور ذہنی صحت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ انسان کی زندگی کا معیار اس کے اعمال اور رویوں سے متعین ہوتا ہے۔ جو افراد اپنی زندگی میں مثبت کردار ادا کرتے ہیں اور دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرتے ہیں، وہ اطمینان اور معنویت کی کیفیت (Generativity) حاصل کرتے ہیں، جبکہ محض وقت گزاری کرنے والے افراد مایوسی (Despair) کا شکار ہو جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ذہنی سکون کے لیے “دینے” کی عادت اپنانا ضروری ہے، جو صرف مالی مدد تک محدود نہیں بلکہ علم، وقت اور رہنمائی کی صورت میں بھی ہو سکتا ہے۔ مزید برآں مائنڈ فلنیس، باقاعدہ ورزش اور جرنلنگ (خیالات کو تحریر کرنا) جیسی عادات ذہنی دباؤ کو کم کرنے میں مؤثر کردار ادا کرتی ہیں۔
ڈاکٹر جاوید نے کہا کہ مثبت ذہنی رویہ انسان کو مشکلات سے نکلنے کی قوت دیتا ہے، جبکہ مسلسل ذہنی دباؤ انسان کی فیصلہ سازی اور زندگی گزارنے کی صلاحیت کو متاثر کرتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ معاشرے میں ذہنی صحت کے حوالے سے آگاہی کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اجلاس میں ممتاز صحافی مبشر میر نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں میڈیا اور سوشل میڈیا کا کردار نہایت اہم ہو چکا ہے، تاہم غیر مصدقہ خبروں اور فیک نیوز کے باعث معاشرے میں اضطراب اور ذہنی دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ذمہ دارانہ صحافت اور مستند معلومات کی فراہمی وقت کی اہم ضرورت ہے، جبکہ سرکاری اداروں کو بھی بروقت اور درست معلومات فراہم کرنے کے مؤثر نظام کو یقینی بنانا چاہیے تاکہ افواہوں کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔
اجلاس کے دیگر شرکاء نے بھی عالمی و علاقائی صورتحال، مسلم دنیا کے مسائل، اور پاکستان کو درپیش چیلنجز پر اپنے خیالات کا اظہار کیا اور اس امر پر زور دیا کہ قومی اتحاد، مثبت سوچ اور ذمہ دارانہ رویے ہی مسائل کے حل کی بنیاد بن سکتے ہیں۔
اجلاس میں شرکت کرنے والے معزز اراکین میں کرنل (ر) مختار احمد بٹ، کموڈور (ر) سدید انور ملک، پروفیسر ڈاکٹر خالده غوث، سینیٹر عبدالحسیب خان، پروفیسر ڈاکٹر تنویر خالد، جسٹس ضیاء پرویز، ابن الحسن رضوی، ، انور ایچ صدیقی، رضوان احمد، سید مظفر اعجاز، مبشر میر، ڈاکٹر عمران امین (وائس چانسلر ہمدرد یونیورسٹی)، بریگیڈیئر (ر) ڈاکٹر ریاض الحق، ظفر اقبال شامل ہیں ۔
