
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کشتی حادثہ یونانی کوسٹ گارڈز کی سنگین غفلت کی وجہ سے پیش آیا ورنہ انسانی جانوں کو بچایا جاسکتا تھا۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے دعویٰ کیا ہے کہ کشتی حادثے میں یونانی کوسٹ گارڈز کی مجرمانہ غفلت بے نقاب ہوئی جس کے ثبوت بھی حاصل کرلیے گئے ہیں اور اس حوالے سے یونان کے حکام نے رابطہ کرنے پر بھی کوئی جواب نہیں دیا۔
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق حادثے سے کچھ دیر پہلے تک کشتی اٹلی کی طرف بڑھی جبکہ یونانی کوسٹ گارڈز نے مدد سے انکار کیا، ڈوبنے سے پہلے کشتی 7 گھنٹوں تک ایک ہی جگہ کھڑی رہی جبکہ کشتی کا انجن فیل ہوچکا تھا، عملہ 7 گھنٹے تک گڑ گڑا کر کوسٹ گارڈز سے مدد مانگتا رہا۔
بی بی سی کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ عالمی معیاری وقت کے مطابق منگل کی صبح 8 بجے یورپی بارڈ فورس نے کشتی کو پہلی بار دیکھا اور یونانی حکام کو اس حوالے سے آگاہ بھی کیا، دوپہر تین بجے لکی سیلر جہاز نے یونانی کوسٹ گارڈ کی ہدایت پر متاثرہ کشتی میں سوار افراد کو کھانا اور پانی فراہم کیا، کوسٹ گارڈ کو ہیلی کاپٹر کی مدد سے آدھے گھنٹے بعد کشتی ملی۔
ابتدائی بیان میں یونانی حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ کشتی مخصوص راستے کے ذریعے داخل ہوئی اور فاصلے پر نظر آئی تھی جبکہ یونانی حکام کی لی گئی تصویر سے واضح ہے کہ کشتی حرکت نہیں کررہی۔ بعد میں یونانی حکام نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے کشتی کا جائزہ لینے کی کوشش کی تو کشتی والوں نے رسی کو ہٹا دیا۔
