سیسی کے تمام افسران و ملازمین کی بائیو میٹرک حاضری کو فوری طور پر یقینی بنایا جائے:سعیدغنی
کراچی: وزیرمحنت و انسانی وسائل سندھ و چیئرمین گورننگ باڈی سندھ ایمپلائز سوشل سکیورٹی انسٹی ٹیوشن (سیسی) سعید غنی نے کہا ہے کہ سیسی کے زیر انتظام چلنے والے تمام اداروں میں تمام ملازمین و افسران کی بائیو میٹرک حاضری کو فوری طور پر یقینی بنایا جائے اور تمام ادویات و دیگر میڈیکل آلات کی خریداری کا نظام صاف و شفاف بنایا جائے اور اوپن مارکیٹ سے ادویات کی خریداری کو فوری طور پر بند کیا جائے۔
وزیرمحنت و انسانی وسائل سندھ و چیئرمین گورننگ باڈی سندھ ایمپلائز سوشل سکیورٹی انسٹی ٹیوشن (سیسی) سعید غنی سندھ اسمبلی کے کمیٹی روم میں منعقدہ سیسی کی گورننگ باڈی کے 176 ویں اجلاس کی صدارت کی۔
اجلاس میں سیکرٹری محنت سندھ ساجد علی ابڑو ، کمشنر سیسی ہادی بخش کلہوڑو، وائس کمشنر سکندربلوچ، اراکین گورننگ باڈی سیسی محمد خان ابڑو، عبدالواحد شورو، زہرہ خان، مختار حسین اعوان، جاوید بلوانی، انجنئیر عبدالجبار، محمد دانش خان اور خلیل بلوچ نے شرکت کی۔ اس موقع پر میڈیکل ایڈوزئزر ڈاکٹر کامران اعوان، ڈائریکٹرمیڈیکل ایڈمنسٹریشن سیسی ڈاکٹر سعادت میمن، ڈائریکٹرکنٹری بیوشن اینڈ بینیفٹ وسیم جمال, ڈائریکٹر پروکیورمنٹ ڈاکٹر اکرم شیخ، ڈائریکٹر فنانس اسد عابدی و دیگر بھی موجود تھے۔
اجلاس میں گورننگ باڈی کے 175ویں اجلاس کے منٹس کی منظوری دی گئی ۔ کمشنر سیسی ہاد بخش کلہوڑو نے نے 174 ویں گورننگ باڈی اجلاس کے فیصلوں پر اب تک ہونے والے پیش رفت سے آگاہ کیا۔ اجلاس میں ایف بی آر کو ایڈوانس ٹیکس کی ہونے والی ادائیگی پر گذشتہ گورننگ باڈی کے اجلاس میں مانگی گئی رپورٹ پر بتایا گیا کہ اس سلسلے میں رپورٹ مرتب کرکے سیکرٹری محنت کو بھیج دی گئی ہے۔ جس پر گورننگ باڈی نے اس حوالے سے سیکرٹری محنت کو اس کی حتمی رپورٹ مرتب کرکے آئندہ گورننگ باڈی میں پیش کرنے کی ہدایات دی۔
اجلاس میں مختلف ادویات و میڈیکل سامان کی ترسیل کرنے والی کمپنیوں کے سال 2019-20, سال 2023-24 اور سال 2024-25 کی تھرڈ پارٹی فرانزک رپورٹ کے بعد اب تک کنفرم 3 کروڑ 36 لاکھ روپے کی ادائیگی کی منظوری دی اور اس سلسلے میں مذکورہ تھرڈ پارٹی فرم کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات اور تجاویز پر من و من عمل درآمد کی بھی ہدایات دی۔
اجلاس میں مزدوروں کے میڈیکل بل کے معاوضہ کی 34 لاکھ روپے کی ادائیگی کی بھی منظوری دی اور تمام افسران کو پابند کیا گیا کہ مزدوروں کے میڈیکل بلز کے معاوضہ کی ادائیگی کا مکمل طریقہ کار آئندہ اجلاس میں سامنے لایا جائے۔ اجلاس میں سال 2025-26 کے نظر ثانی بجٹ پر بھی تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ موجودہ عالمی حالات کے تناظر میں اس بات کو یقینی بنانے کی ہدایات کی گئی کہ مزدوروں کو فراہم کی جانے والی ادویات میں کسی قسم کی کوئی رکاوٹ نہ آئے اور اس حوالے سے گورننگ باڈی نے جولائی کے لئے ایڈوانس ادویات کی خریداری کے لیے 15 کروڑ روپے کے بجٹ کی منظوری دی اور ہدایات دی کہ یہ ادویات اوپن مارکیٹ نہیں بلکہ ٹینڈرز کے ذریعے خریدی جائیں۔
کمشنر سیسی نے بتایا کہ گورننگ باڈی کی منظوری کے بعد سیسی کے زیر انتظام سندھ بھر میں چلنے والی اسپتالوں کے لئے 3 سال کے کنٹریکٹ پر 60 کنسلٹنٹ اور ماہر ڈاکٹروں کو بھرتی کرنے کا عمل شروع کردیا گیا ہے۔ اجلاس میں ری آرگنائزیشن کمیٹی کی سفارشات پر لوکل ڈائریکٹوریٹ کی تشکیل کو مکمل کرنے کی رپورٹ کی منظوری دی گئی ۔ اجلاس میں سیسی میں انٹرنشپ پروگرام کے تحت 25 افراد کو انٹرنشپ دینے کی سفارش پر گورننگ باڈی نے اس معاملہ کو ری آرگنائزیشن کمیٹی کے سپرد کرکے اس کی رپورٹ آئندہ اجلاس میں پیش کرنے کی ہدایات دی۔
اجلاس میں سیسی ملازمین کے لیو انکیشمنٹ کی بحالی کے ایجنڈے کا معاملہ سیسی کی فنانس کمیٹی کے سپرد کرتے ہوئے اس کے تمام قانونی تقاضوں کو دیکھتے ہوئے رپورٹ آئندہ اجلاس میں پیش کرنے کی ہدایات دی۔ اجلاس میں صوبائی وزیر نے کمشنر سیسی کو ہدایات دی کہ تمام ملازمین و افسران کی بائیو میٹرک حاضری کو فوری طور پر یقینی بنایا جائے۔
اجلاس میں صوبائی وزیر سعید غنی نے ہدایات دی کہ آئندہ مالی سال 2026-27 کا بجٹ مئی تک پیش کردیا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سیسی میں تمام ادویات و دیگر میڈیکل آلات کی خریداری کا نظام صاف و شفاف بنایا جائے اور اوپن مارکیٹ سے ادویات کی خریداری کو فوری طور پر بند کیا جائے۔
سعید غنی نے ہدایات دی کہ گورننگ باڈی کے تمام فیصلوں پر من و من عمل درآمد کیا جائے اور اجلاس میں ہونے والے تمام فیصلوں کو یقینی بنایا جائے۔

