عامر اعوان قتل کیس کے ملزمان24 گھنٹوں سے پہلے گرفتار ہوئے: طلال چوہدری
اسلام آباد: وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے اعلیٰ پولیس حکام کے ہمراہ نیوز کا نفرنس میں کہا کہ اسلام آباد میں امن امان کی صورتحال ملک کے دیگر شہروں سے مختلف اور مشکل ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کاروباری شخصیت عامر اعوان کا واقعہ انتہائی افسوسناک تھا۔ 24 گھنٹوں سے پہلے ملزمان کو گرفتار کیا گیا، اس واقعے میں منصور خان ڈکیت گینگ ملوث ہے جو بلٹ پروف جیکٹ سے مشہور ہے، اس میں افغانی اور دیگر بھی شامل ہے۔
وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ اسلام آباد میں امن امان کی صورتحال بہتر ہے۔سیف سٹی تو ملک کے دیگر شہروں میں بھی ہے مگر اسلام آباد میں سمارٹ سٹی بنے گا۔
آئی جی اسلام آباد نے کہا کہ عامر اعوان کیس میں 17ٹیمیں تشکیل دی گئیں، جیوفینسنگ 6 جگہوں سے کی گئی، 137 کال ڈٹیلس لی گئیں، 257 کئمراؤں سے مدد لی گئی۔93 لوگوں کو انٹروگیٹ کیا، 31 ریڈ کیے گئے، پنڈی، اسلام آباد اور کے پی کے کے اضلاع چارسدہ اور مردان میں ریڈ کے گئے۔
آئی جی اسلام آباد نے کہا کہ یہ منصور خان ڈکیت گینگ بین الصوبائی اور 5 رکنی تھا، تمام ملزمان پکڑے گئے ہیں، ملزمان مکمل تیاری کرکے آتے تھے، عامر اعوان واردات کے دوران بھی ان کے پاس بڑا اسلح تھا،گارڈ سے موبائیل بھی چہین گئے تھے، تحقیقات میں پتا چلا کہ ان کے ساتھ دو افغانی بھی شامل تھے۔ ملزمان سے گارڈ کا اسلحہ اور موبائیل فون بھی برآمد کیے۔ یہ کیس نیشنل اکیڈمی میں بھی بھیجا جائے گا۔ اسلام آباد پولیس نے بڑے محنت کرکے 24 گھنٹوں کے اندر کیس کو منتقی انجام تک پہنچایا۔
