وزیراعلیٰ سندھ کا نیو سیکریٹریٹ اور تغلق ہاؤس کا اچانک دورہ، غیر حاضر سیکریٹریز سے وضاحت طلب
کراچی: وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے منگل کی صبح سندھ سیکریٹریٹ اور تغلق ہاؤس (اولڈ سیکریٹریٹ) کا اچانک دورہ کیا، جہاں انہوں نے مختلف محکموں کی کارکردگی، جاری تزئین و آرائش کے کاموں اور ملازمین کی حاضری کا تفصیلی جائزہ لیا۔ وزیراعلیٰ سندھ سب سے پہلے نیو سیکریٹریٹ پہنچے، جہاں جہاں چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ موجود تھے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے گراؤنڈ فلور پر زیرِ تعمیر کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کا معائنہ کیا اور ہدایت کی کہ اسے جدید ٹیکنالوجی اور مؤثر نظام سے آراستہ کیا جائے تاکہ انتظامی امور مزید بہتر بنائے جا سکیں۔
بعد ازاں، انہوں نے تغلق ہاؤس کا دورہ کیا اور محکمہ اسکول ایجوکیشن، محکمہ داخلہ، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈپارٹمنٹ ، مائنز اینڈ منرلز ڈپارٹمنٹ ، چیف منسٹر انسپیکشن ٹیم اور پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ (پی اینڈ ڈی) کے دفاتر کا معائنہ کیا۔ اس دوران انہوں نے سیکریٹریز اور دیگر اعلیٰ افسران کی حاضری کو بھی چیک کیا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے پی اینڈ ڈی ڈیپارٹمنٹ کے نو تعمیر شدہ کمیٹی روم کا بھی جائزہ لیا اور سہولیات پر اطمینان کا اظہار کیا۔ سید مراد علی شاہ نے تغلق ہاؤس میں جاری تزئین و آرائش کے کاموں کا بھی معائنہ کیا اور متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ منصوبہ مقررہ مدت میں جلد از جلد مکمل کیا جائے۔
دورے کے دوران تقریباً تمام صوبائی سیکریٹریز اپنے دفاتر میں موجود پائے گئے، تاہم چند افسران کی غیر حاضری پر وزیراعلیٰ سندھ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے چیف سیکریٹری کو ہدایت دی کہ جو سیکریٹریز غیر حاضر تھے ان سے وضاحت طلب کی جائے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے مختلف محکموں میں عملے کی حاضری کا جائزہ لیتے ہوئے سختی سے ہدایت کی کہ ملازمین کی باقاعدہ موجودگی کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ تمام محکمے عوامی مسائل کے حل اور خدمات کی فراہمی میں مؤثر اور ذمہ دارانہ کردار ادا کریں۔سید مراد علی شاہ نے اس بات پر زور دیا کہ ملازمین اپنی ذمہ داریاں ایمانداری اور پیشہ ورانہ انداز میں انجام دیں، بروقت دفاتر پہنچیں اور کام پر مکمل توجہ دیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ ملک کی مجموعی صورتحال کے باعث دفاتر میں ملازمین کی تعداد کم ہوئی ہے، لیکن اسے غیر حاضری کا بہانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے چیف سیکرٹری کو ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ جو ملازمین ڈیوٹی پر ہیں وہ اپنی موجودگی کو یقینی بنائیں۔
